உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تین طلاق آئین، قانون، جمہوریت کے اصولوں اور تہذیب کے خلاف، اب ختم کرنے کا آ گیا وقت: وینکیا

    حیدرآباد۔ ایک ساتھ تین طلاق کو آئین اور تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب ملک کو انصاف، وقار اور مساوات کی مدد سے اس صنفی امتیاز کو ختم کر دینا چاہئے۔

    حیدرآباد۔ ایک ساتھ تین طلاق کو آئین اور تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب ملک کو انصاف، وقار اور مساوات کی مدد سے اس صنفی امتیاز کو ختم کر دینا چاہئے۔

    حیدرآباد۔ ایک ساتھ تین طلاق کو آئین اور تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب ملک کو انصاف، وقار اور مساوات کی مدد سے اس صنفی امتیاز کو ختم کر دینا چاہئے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      حیدرآباد۔ ایک ساتھ تین طلاق کو آئین اور تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب ملک کو انصاف، وقار اور مساوات کی مدد سے اس صنفی امتیاز کو ختم کر دینا چاہئے۔ نائیڈو نے کہا کہ ایک ساتھ تین طلاق آئین، قانون اور جمہوریت کے اصولوں اور تہذیب کے خلاف ہے۔ اس طرح کے خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے۔ پہلے ہی بہت زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ ایسے میں وقت آ گیا ہے، جب ملک کو آگے بڑھ کر امتیازی سلوک ختم کرنے اور صنفی انصاف اور مساوات لانے کے لئے ایک ساتھ تین طلاق کو ختم کر دینا چاہئے۔ ہم لوگوں کو اسے ختم کرنا چاہئے۔

      یہاں منعقد ایک پروگرام سے الگ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ مسلم خواتین بھی مساوات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کسی طرح کا صنفی امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ صنفی انصاف ہونا چاہئے اور آئین کے سامنے سب برابر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ چونکہ سپریم کورٹ ابھی اس معاملے کی چھان بین کر رہا ہے۔ ایسے میں وہاں کوئی بھی جا سکتا ہے اور اپنی فکر کو رکھ سکتا ہے۔

      یکساں سول کوڈ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت شفاف طریقے سے سب کچھ کرے گی۔ وہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے گی۔ کچھ طبقات پروپیگنڈے کر رہے ہیں کہ حکومت پچھلے دروازے سے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سات اکتوبر کو مرکزی حکومت نے پہلی بار سپریم کورٹ میں مسلمانوں میں رائج ایک ساتھ تین طلاق، نکاح، حلالہ اور تعدد ازدواج کے رواج کی مخالفت کی تھی اور مساوات اور سیکولرازم کی بنیاد پر ان طریقوں کا جائزہ لینے کی حمایت کی تھی۔
      First published: