ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دولہے نے دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ کی شادی ، وجہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش

Karnataka Double Marriage: سوشل میڈیا پر اس شادی کو لے کر لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔ کچھ لوگ اس کو غلط مان رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس کو ایک اچھا قدم بتارہے ہیں ۔

  • Share this:
دولہے نے دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ کی شادی ، وجہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش
دولہے نے دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ کی شادی ، وجہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش

بنگلورو : ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہورہی ہے ، جس میں ایک دولہے کے ساتھ دو دلہنیں کھڑی نظر آرہی ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں دلہنیں سگی بہنیں ہیں ۔ ایک ہی منڈپ میں ایک ہی دولہے کے ساتھ ان دونوں کی شادی ہوئی ، لیکن شادی کا پورا معاملہ قانونی پیچیدگی میں پھنس گیا ۔ دولہے کو پولیس نے گرفتارکرلیا ہے ، جس کی وجہ سے لڑکی اور لڑکے کا پورا کنبہ پولیس کی اس کارروائی سے حیران ہے ۔


یہ پورا واقعہ کرناٹک کے کولار ضلع میں پیش آیا ۔ 30 سال کا اوما پتی ، للتا سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔ لڑکی رشتے میں اوماپتی کی بھانجی تھی ۔ للتا شادی کیلئے مان گئی ، لیکن اس نے لڑکے کے سامنے ایک شرط رکھ دی ۔ شرط یہ کہ اس کو اس کی بڑی بہن سپریا سے بھی شادی کرنی ہوگی ۔ سپریا قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم تھی ۔ للتا کی اس شرط کواوماپتی نے مان لیا ۔ پھر کیا تھا شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں ۔ سات مئی کو ایک ہی منڈپ میں شادی ہوئی اور اس کے بعد شادی کی تصویریں وائرل ہوگئیں ۔


پولیس نے کیا گرفتار


وائرل تصویریں گھر والوں کیلئے گلے کی ہڈی بن گئیں ۔ دولہے کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ محکمہ بہبود اطفال کے افسران نے پایا کہ چھوٹی بہن للتا نابالغ ہے اور اس کی عمر صرف 17 سال ہے ۔ ساتھ ہی پولیس نے یہ کہا کہ اہل خانہ نے کورونا کے پروٹوکول پر عمل نہیں کیا اور اجازت کے بغیر ہی شادی کرلی ، لہذا دونوں کے کبنہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور پھر دولہے اوماپتی کو گرفتار کرلیا گیا ۔

سوشل میڈیا پر اس شادی کو لے کر لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔ کچھ لوگ اس کو غلط مان رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس کو ایک اچھا قدم بتارہے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اوماپتی نے معذور لڑکی سے شادی کرکے اچھا کام کیا ہے ۔

فی الحال اوماپتی جیل میں ہے جبکہ اس کے والدین ، سسرال والے ، شادی کی رسمیں نبھانے والے پجاری ، شادی کا کارڈ چھاپنے والا پرنٹر سبھی فرار ہیں اور پولیس نے انہیں تلاش کرنے کیلئے ایک ٹیم بنائی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 18, 2021 05:22 PM IST