ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مسلمانوں کا سماجی و سیاسی مستقبل کے موضوع پر بنگلورو میں ویژن کرناٹک کا اہم اجلاس

مسلم دانشوروں کی تنظیم ویژن کرناٹک کے تحت بنگلورو میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شہر کے شیواجی نگر کے اسلامی بیت المال فنکشن ہال میں منعقدہ اس اجلاس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

  • Share this:
مسلمانوں کا سماجی و سیاسی مستقبل کے موضوع پر بنگلورو میں ویژن کرناٹک کا اہم اجلاس
مسلمانوں کا سماجی و سیاسی مستقبل کے موضوع پر بنگلورو میں ویژن کرناٹک کا اہم اجلاس

مسلم دانشوروں کی تنظیم ویژن کرناٹک کے تحت بنگلورو میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شہر کے شیواجی نگر کے اسلامی بیت المال فنکشن ہال میں منعقدہ اس اجلاس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کا عنوان تھا کرناٹک میں مسلمانوں کا سماجی و سیاسی مستقبل۔ اس موقع پر ویژن کرناٹک کے کنوینرایڈوکیٹ ایوب احمد خان نے کہا کہ ملک اور ریاستی کا سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے نظریات اور اصولوں پر قائم رہتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ دل بدل کی سیاست، موقع پرستی کی سیاست ، مفاد پرستی کی سیاست، جوڑ توڑ کی سیاست عام ہوچکی ہے۔


ایڈوکیٹ ایوب احمد خان نے کہا کہ ان حالات میں مسلمانوں کا سیاسی موقف کیا ہونا چاہئے، مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی کس طرح کی ہونی چاہئے، مسلمان سیاسی طور پر کس طرح اثر انداز ہوں، اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کو کس طرح بڑھایا جائے، ان تمام  باتوں پر غور و فکر کرنے کیلئے یہ اجلاس منعقد کیا گیا۔


روز نامہ سالار کے سابق ایڈیٹر کے افتخار احمد شریف نے کہا کہ کرناٹک میں تین بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کئی چھوٹی سیاسی پارٹیاں بھی ہیں۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے یا کسی ایک فیصلہ پر پہنچنے کیلئے ایک نشست کافی نہیں ہے ، اس طرح کی مزید نشستوں کی ضرورت ہے۔ وہیں پروفیسر نازنین بیگم نے کہا کہ ریاست میں مسلم سیاسی پارٹیوں کیلئے ماحول ساز گار نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلم سیاسی پارٹی سرگرم عمل ہوجائے تو بی جے پی کیلئے ہندو ووٹوں کو متحد کرنا آسان بن جاتا ہے۔ نازنین بیگم نے کہا کہ مسلم سیاسی پارٹیوں کی بجائے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔


اجلاس میں کانگریس پارٹی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل پر طویل گفتگو ہوئی۔ وظیفہ یاب سرکاری افسر قاضی انیس الحق نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں کانگریس پارٹی کمزور ہوچکی ہے۔ وہاں مسلمانوں کا جھکاؤ بھی اب کانگریس پارٹی کی جانب نہیں ہے۔ ان حالات میں کرناٹک میں مسلمانوں کیلئے کانگریس کا متبادل کیا ہوسکتا ہے؟ یا پھر کانگریس پارٹی کو ہی دوبارہ اقتدار میں لانے کی پہل کی جائے۔ اس طرح مختلف زاویوں سے غور و فکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کسی سیاسی پارٹی کی تائید یا مخالفت میں اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

چند افراد نے یہ بات کہی کہ مسلمان سیاسی پارٹیوں کی بجائے امیدواروں کی بنیاد پر فیصلہ لیں۔
چند افراد نے یہ بات کہی کہ مسلمان سیاسی پارٹیوں کی بجائے امیدواروں کی بنیاد پر فیصلہ لیں۔


روز نامہ پاسبان کے سینئر صحافی عبدالخالق نے کہا کہ ملک میں کانگریس پارٹی نے کئی اتار چڑھاو دیکھے ہیں۔ اس سے قبل بھی پارٹی کئی مرتبہ اقتدار سے بے دخل ہوئی ہے اور کئی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ معروف قلمکار فیاض قریشی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا دستور ایک بہترین دستور ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ دور میں کانگریس کے لیڈر اپنی پارٹی کے دستور پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ اجلاس میں یہ رائے بھی پیش کی گئی کہ بی جے پی سمیت تمام سیاسی پارٹیوں میں مسلمانوں کی موجودگی ضروری ہے۔ بی جے پی لیڈر اور کرناٹک اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عبدالعظیم کے اس بیان پر بھی اجلاس میں بحث ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کم سے کم 15 فیصد مسلمان بی جے پی میں رہیں۔

جنتادل سیکولر ( جے ڈی ایس) پر بھی اجلاس میں گفتگو کی گئی۔ جے ڈی ایس پارٹی کبھی کانگریس تو کبھی بی جے پی کی حمایت میں دکھائی دیتی ہے۔ جے ڈی ایس کے لیڈران ایچ ڈی دیوے گوڑا اور ایچ ڈی کمارا سوامی مسلمانوں سے ہمدردی، مسلم دوست ہونے کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کو نمائندگی دینے کی بات آتی ہے تو یہ پارٹی بھی پیچھے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اجلاس میں یہ بات بھی کہی گئی کہ بائیں بازو کی پارٹیاں دوبارہ مضبوط ہورہی ہیں۔ بہار میں بائیں بازو کی پارٹیوں کا مظاہرہ اچھا رہا ہے۔ ایس ڈی پی آئی، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، مجلس اتحاد المسلمین جیسی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔ ان پارٹیوں کو بھی چند حلقوں میں کامیاب بنایا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں بھی آراء سامنے آئیں۔

چند افراد نے یہ بات کہی کہ مسلمان سیاسی پارٹیوں کی بجائے امیدواروں کی بنیاد پر فیصلہ لیں۔ کانگریس ہو،  بی جے پی ہو یا جے ڈی ایس جس کسی پارٹی کے نمائندے نے اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کا کام انجام دیا ہے ، ایسے نمائندوں کی تائید کی جانی چاہئے۔

معروف سماجی کارکن ساجدہ بیگم نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلم ووٹوں کی اہمیت گھٹ رہی ہے۔ مسلم ووٹ بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ ایک وقت تھا مسلم ووٹوں کے بغیر کوئی بھی سیاسی پارٹی اقتدار تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔ لیکن آج مسلمان بڑی تعداد میں رہنے کے باوجود مسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ اس مسئلہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سجادہ بیگم نے کہا کہ سیاسی طور پر اثر انداز ہونے ، اپنی سیاسی طاقت ثابت کرنے کیلئے مسلمانوں کا آپس میں متحد رہنا ضروری ہے۔

وظیفہ یاب ونگ کمانڈر محمود خان نے کہا ای وی ایم کی بجائے بیلٹ پیپرز کے ذریعہ انتخابات ہونے چاہئیں۔ اس کیلئے مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ ویژن کرناٹک کے سرپرست غلام غوث نے کہا کہ علماء کرام اور اہم ملی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں آل انڈیا ملی کونسل اور کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی لیکن صرف ملی کونسل کے نمائندوں نے حصہ لیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 01, 2021 02:27 PM IST