உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vote Bank Politics: ’ووٹ بینک کی سیاست اب خارجہ پالیسی پر اثر انداز نہیں ہوگی‘ ایس جے شنکر

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    Vote Bank Politics: ایس جے شنکر نے کہا کہ کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہمیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے خود کو محدود کرنا پڑا۔ پی ایم مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم تھے جو اسرائیل گئے۔ وہ وقت گزر گیا جب ہم ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قومی مفاد کو ایک طرف رکھتے تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Lucknow
    • Share this:
      Vote Bank Politics: وزیر خارجہ ایس جے شنکر (S Jaishankar) نے اسرائیل کے بارے میں ہندوستان کے موجودہ موقف میں تبدیلی کے ثبوت کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسیوں پر حاوی ووٹ بینک کی سیاست کے دن ختم ہوگئے۔ جے شنکر نے اتوار کے روز اپنی کتاب The India Way: Strategies for an Uncertain World کے گجراتی ترجمہ کے اجراء کے موقع پر خطاب کیا۔

      ایس جے شنکر نے کہا کہ کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہمیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے خود کو محدود کرنا پڑا۔ پی ایم مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم تھے جو اسرائیل گئے۔ وہ وقت گزر گیا جب ہم ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قومی مفاد کو ایک طرف رکھتے تھے۔ اب ہم قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

      وزیر خارجہ نے نریندر مودی (Narendra Modi) حکومت کی بھی ستائش کی اور کہا کہ اس وقت اس عہدے پر فائز ہونا ایک بڑی طاقت ہے۔ ہندوستان واحد ملک ہے۔ یہاں اسرائیل کا واٹر اتاشی (Water Attaché) موجود جو ہندوستان میں آبی سربراہی کے شعبے میں پیشرفت کے لیے اسرائیل کے بہترین طریقوں اور ٹیکنالوجیز کو شیئر کرنے میں مدد کرتا ہے۔

      میں اس شخص کے بارے میں رشک کروں گا جو 2047 میں وزیر خارجہ رہے گا، لیکن میں آپ کو ایک بات کہوں گا۔ وہ یہ ہے کہ نریندر مودی حکومت کا وزیر خارجہ بننا بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ مودی کے دور میں دنیا نے زندگی کے ہر شعبے میں ہندوستان کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔

      ’جبری آبادی پر کنٹرول خطرناک‘

      یہ بھی پڑھیں: 

      Relationship:نئے لوگوں سے دوستی کرنے کیلئے ایسے شروع کریں بات چیت، ہر کوئی ہوجائے گا متاثر

      ہندوستان کی آبادی کے بارے میں جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی میں اضافے کی شرح بہت تیزی سے گر رہی ہے، جس کی وجوہات تعلیم، سماجی بیداری وغیرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم میں سے ہر ایک آبادی پر جبری کنٹرول کے خطرناک نتائج بھگت سکتا ہے۔ آپ کچھ ممالک میں دیکھ سکتے ہیں، ان کا صنفی توازن بگڑ گیا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کے مفاد میں نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Mohali fair: موہالی میلے میں ہر جگہ خوف ہی خوف! جوئرائیڈ ہوا تباہ، 5 بچوں سمیت 10 افراد زخمی

      انھوں نے کہا کہ جمہوریت کی اپنی خامیاں ہیں۔ کبھی کبھی لوگ اس سے مایوس ہو جاتے ہیں. لیکن اس کی تمام مشکلات کے باوجود جمہوریت غیر جمہوریت سے بہتر ہے اور آبادی کو کنٹرول کرنے جیسے مسائل کا حل جمہوری ہونا ہوگا۔ جنھوں نے لوگوں کو مجبور کیا وہ آج پچھتا رہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: