உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    2022 انتخابات نہیں بلکہ ان امور پر پرشانت کشور اور سونیا گاندھی کررہے ہیں بات چیت

    2022 انتخابات نہیں بلکہ ان امور پر پرشانت کشور اور سونیا گاندھی کررہے ہیں بات چیت

    2022 انتخابات نہیں بلکہ ان امور پر پرشانت کشور اور سونیا گاندھی کررہے ہیں بات چیت

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پرشانت کشور کا پنجاب سے دوری اختیار کرنا فروری 2022 کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی زوال پذیر قسمت کی کہانی ہے ۔

    • Share this:
      رشید قدوائی

      پرشانت کشور کی کہانی کانگریس کے ساتھ رفتہ رفتہ حقیقی ہوتی جارہی ہے۔ پرشانت کشور نے جمعرات کو وزیراعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ کے مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب ایک 'آزاد ایجنٹ' کے کردار کو پسند نہیں کر رہے ہیں ۔ بلکہ وہ ایک سیاسی جماعت کا حصہ بننے اور 2024 میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پرشانت کشور کا پنجاب سے دوری اختیار کرنا فروری 2022 کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی زوال پذیر قسمت کی کہانی ہے ۔

      در حقیقت ، اگر کانگریس کے اندرونی لوگوں پر یقین کیا جائے تو پرشانت کشور اترپردیش ، اتراکھنڈ یا گجرات میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں فعال طور پر 'حکمت عملی' نہیں بنائیں گے ۔


      پرشانت کشور گزشتہ ایک سال سے کانگریس کی عبوری سربراہ سونیا گاندھی سے ملاقات کر رہے ہیں ۔ عام تاثر اور میڈیا قیاس آرائیوں کے برعکس ، پرشانت کشور اور سونیا گاندھی کی گفتگو پول سینٹرک نہیں رہی ۔ بلکہ انہوں نے کانگریس کو نئی زندگی دینے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ کشور نے مبینہ طور پر تینوں گاندھیوں (بشمول راہل اور پرینکا) سے کہا کہ تنظیمی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ، نہ کہ انتخابات اور انتخابات جیتنے پر ۔ کانگریس اپنے نظریے ، تنظیم اور کارکنوں کی وجہ سے 136 سالوں سے ترقی کرتی رہی ہے اور اس کو آنے والی دہائیوں میں برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کا کام کیا جانا چاہئے ۔

      کانگریس کے اعلیٰ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پرشانت کشور بڑے تنظیمی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں ۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے ، انتخابی اتحاد اور فنڈ ریزنگ سمیت دیگر چیزوں پر طویل گفتگو کی گئی ہے ۔ مدھیہ پردیش کانگریس یونٹ کے سربراہ کمل ناتھ بھی کچھ بات چیت کا حصہ رہے ہیں جبکہ تینوں گاندھی ( سونیا ، راہل اور پرینکا گاندھی ) کشور کے مسودہ کے بڑے حمایتی رہے ہیں ۔ کمل ناتھ کیلئے ایک قومی کردار بھی کارڈ میں شامل ہے ۔

      بتایا جاتا ہے کہ کشور نے اے آئی سی سی کے کئی عہدیداروں ، ریجنل اسٹریپس ، ینگ ونگ سے براہ راست ملاقات کی ۔ یہ کہنے میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ 10 میں سے آٹھ نے اسے ایک ’اثاثہ‘ کے طور پر دیکھا ہے ۔

      جیسا کہ میڈیا کے ایک حصے نے پہلے ہی رپورٹ کیا ہے کہ راہل گاندھی نے پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کو پرشانت کشور کی کانگریس میں شمولیت کے امکان کے بارے میں اشارہ دیدیا ہے ۔ اے کے انٹونی ، ملکا ارجن کھڑگے اور امبیکا سونی سے لے کر کئی دیگر رہنماوں کے ذریعہ کشور کی ممکنہ شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ تاہم  خاموش آوازوں میں سے کچھ نے مشورہ دیا ہے کہ پارٹی کو اس طرح نظر نہیں آنا چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کیلئے آؤٹ سورس کررہی ہے ۔

      اگر پرشانت کشور کیلئے'فری ہینڈ' کی بات کی جائے تو پی کے کا (اس نام سے پرشانت کشور مشہور ہیں ) 2024 پر توجہ مرکوز کرنا اور کانگریس کی ذمہ داری سنبھالنا جلد ہی حقیقت بن سکتا ہے۔


      پرشانت کشور کے پارٹی لائنوں سے بالاتر وسیع رابطے ہیں ۔ ممتا بنرجی ، شرد پوار ، ایم کے اسٹالن ، ادھو ٹھاکرے ، اکھلیش یادو ، ہیمنت سورین اور جگن موہن ریڈی سے ان کی قربت جگ ظاہر ہے ۔ انتخابی حکمت عملی کے ماہر کا موقف ہے کہ جب تک کانگریس ، جو راجستھان ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، گجرات ، اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش ، مہاراشٹر ، آسام ، ہریانہ اور جھارکھنڈ وغیرہ جیسی ریاستوں میں بی جے پی کے ساتھ براہ راست مقابلہ میں ہے ، اپنے حریف کو شکست دینا شروع نہیں کرتی ہے ، اس وقت تک نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے کو اقتدار سے ہٹانے کی مشترکہ اپوزیشن کی کوششیں حقیقت میں تبدیل نہیں ہوں گی ۔

      بڑا سوال یہ ہے کہ کانگریس کے نمائندہ کی حیثیت سے وہ سب کو بورڈ میں شامل کر سکتے ہیں یا نہیں اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا کانگریس ، جس کو تبدیلی سے الرجی ہے ، اپنے آپ کو نئی شکل اور شیپ دینے کی اجازت دے گی؟ ۔

      تاہم ، کشور کی طرف سے کانگریس کی پیشکش  کو 'ہاں' کہنے کا وقت صرف ایک پیشہ ور کیریئر سے  سیاستداں بننے کے لیے جانا  جاتاہے۔

      مضمون نگارایک سینئر صحافی ہیں ۔ مضمون میں پیش کئے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں ۔ اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: