உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: حیدرآباد کے 3 مشہور تاریخی ورثوں سردار محل، میر عالم منڈی و محبوب چوک کی کیاہے اہمیت؟

    سردار محل کو ایک ثقافتی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔  (تصویر: محمد رحمان پاشا)

    سردار محل کو ایک ثقافتی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ (تصویر: محمد رحمان پاشا)

    نئی پیش رفت سے واقف ذرائع کے مطابق تاریخی چارمینار کے قریب واقع سردار محل کو شہر کے ثقافتی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ جو ہر روز چارمینار، مکہ مسجد، چومحلہ محل اور دیگر یادگاروں کا دورہ کرنے والے ہزاروں سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنے گا۔

    • Share this:
    حیدرآباد میں ثقافتی ورثہ کے تحفظ کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت سرگرم نظر آرہی ہے۔ پرانے شہر کے تین مشہور ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے ضمن میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سردار محل، میر عالم منڈی اور محبوب چوک تینوں نظام دور کے تاریخی ورثے ہیں۔ اب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) ان مقامات کے ماضی کی شان کو بحال کرنے کے لیے ایک منصوبے پر کام شروع کر رہا ہے۔

    میونسپل انتظامیہ اور شہری ترقی کے وزیر کے ٹی۔ راما راؤ (K.T. Rama Rao) نے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر مجلس اتحاد المسلیمن بیرسٹر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کے ساتھ منگل کے روز ہیریٹیج عمارتوں کے تحفظ، بحالی اور مضبوطی کے کاموں کا باقاعدہ آغاز کیا۔

    سردار محل (Sardar Mahal):

    نئی پیش رفت سے واقف ذرائع کے مطابق تاریخی چارمینار کے قریب واقع سردار محل کو شہر کے ثقافتی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ جو ہر روز چارمینار، مکہ مسجد، چومحلہ محل اور دیگر یادگاروں کا دورہ کرنے والے ہزاروں سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنے گا۔ راما راؤ نے کہا کہ 30 کروڑ کی لاگت سے شروع کیا جانے والا یہ پروجیکٹ نہ صرف ثقافتی ورثہ کے ڈھانچے کی حفاظت کرے گا بلکہ حیدرآباد آنے والے سیاحوں کے لیے کشش پیدا کرے گا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ سردار محل کے نام سے نظام ششم میر محبوب علی خان (Nizam VI Mir Mahboob Ali Khan) کی طرف سے 1900 میں یورپی انداز میں ایک محل تعمیر کیا گیا تھا، جسے اب اضافی آرکیٹیکچرل ڈیزائن کے ساتھ محفوظ کیا جائے گا اور اس کی اصل ساخت میں بحال کیا جائے گا۔

    انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH) نے ایک تاریخی عمارت قرار دیا ہے۔
    انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH) نے ایک تاریخی عمارت قرار دیا ہے۔ (تصویر: محمد رحمان پاشا)


    ذرائع کے مطابق سردار محل کو ایک ثقافتی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ یہاں ایک میوزیم، 10 تا 12 کمروں کا ہوٹل، نمائشی احاطہ اور کلچرل پرفارمنس سمیت مختلف سرگرمیاں انجام دی جائے گی۔ مجوزہ سرگرمیوں میں ثقافتی تقریبات، ورکشاپس، آرٹ کی نمائشیں اور ہیریٹیج واک شامل ہیں۔ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) میں ’بلٹ، آپریٹ اور ٹرانسفر‘ تصور کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔

    قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (QQSUDA) اس پروجیکٹ کو انجام دے گی۔ اس کے مطابق حیدرآباد کی شناخت کو محفوظ رکھنے میں معاون ہوگا۔ یہاں ثقافتی ورثے، تخلیقی صلاحیتوں، کاروباری صلاحیتوں، مقامی اور علاقائی سطحوں پر اختراعات پر مبنی سرگرمیاں انجام دی جائے گی۔ اگرچہ محبوب علی خان نے یہ محل اپنی ایک بیگم سردار بیگم (Sardar Begum) کے لیے بنایا تھا، لیکن انھوں نے محبت کے اس محل میں رہنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ یہاں کوئی بھی مستقل قیام نہیں کیا، لیکن اس عمارت کو انھی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اسے ہیرٹیج کنزرویشن کمیٹی اور انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (INTACH) نے ایک تاریخی عمارت قرار دیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) نے بقایا پراپرٹی ٹیکس کی وجہ سے 1965 میں سردار محل کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

    سابق میں دکن آرکائیو کی جانب سے سردار محل کا ہیریٹیج واک کرایا گیا تھا۔ (تصویر: محمد رحمان پاشا)
    سابق میں دکن آرکائیو کی جانب سے سردار محل کا ہیریٹیج واک کرایا گیا تھا۔ (تصویر: محمد رحمان پاشا)


    میر عالم منڈی (Mir Alam Mandi):

    میر عالم منڈی جو کہ ایک تاریخی آثار بھی ہے۔ اب اسے 21 کروڑ روپے کی لاگت سے بحال اور تزئین و آرائش کیا جائے گا۔ تقریبا 200 سال سے زیادہ پرانی سبزی منڈی کا نام میر عالم کے نام پر رکھا گیا ہے، جو 1804 سے 1808 میں اپنی موت تک ریاست حیدرآباد کے مدار المہام یعنی وزیر اعظم رہے تھے۔ کئی برسوں سے متعلقہ حکام کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے یہ منڈی خستہ حالی کا شکار ہے۔ تاریخی بازار کا کمان یا محراب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور یہاں کی چند ایک دیواریں گرنے سے تاجروں اور خریداروں کے لیے خطرہ ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ کے تحت قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی، میر عالم منڈی میں تاجروں اور دکانداروں کو جدید سہولیات فراہم کرے گی۔

    مزید پڑھیں: حیدرآباد دکن میں واقع دائرہ میر مومن جہاں کربلا کی خاک شفا ہے، دکن آرکائیو کی جانب سے ہیریٹیج واک کا اہتمام

    محبوب چوک (Mahboob Chowk):

    منگل (19 اپریل 2022) کے روز شروع ہونے والا ایک اور اہم منصوبہ محبوب چوک کی بحالی اور تعمیر نو تھا جس کی لاگت 35 کروڑ روپے تھی۔ یہ چارمینار کے قریب واقع ہے اور مرگی چوک (Murgi Chowk) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ تاریخی ورثے کا ڈھانچہ ہے اور اس میں 200 سے زیادہ دکانیں ہیں۔ جہاں گوشت کے علاوہ مرغی اور پرندے فروخت کیے جاتے ہیں۔ محبوب چوک بازار 20 ویں صدی کے اوائل میں بنایا گیا تھا۔ مجوزہ گراؤنڈ پلس ون مارکیٹ کمپلیکس گوشت اور پولٹری سے متعلق کاروبار کے لیے جدید سہولیات، نکاسی اور گندے پانی کی صفائی کے لیے بہتر انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔

    مزید پڑھیں: چومحلہ پیلس فن تعمیرکاعظیم شاہکار، اس کےذکر کےبغیر آصف جاہی طرزتعمیر کا ذکر ادھورا

    اس منصوبے سے پورے علاقے کو ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ جہاں تاریخی کلاک ٹاور بھی شامل ہے، جسے چند سال قبل بحال کیا گیا تھا۔ کے ٹی آر نے تاریخی میر عالم ٹینک پر 2.55 کروڑ کی لاگت سے نصب میوزیکل فاؤنٹین کا بھی افتتاح کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے میر عالم ٹینک کو سیاحوں کی توجہ کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے اقدام کی ستائش کی۔

    اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایک آٹھ کلومیٹر کا بند تیار کیا جائے گا جس میں پارک اور سیاحوں کے لیے واک ویز بنائے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ ٹریفک کے ہجوم کو کم کرنے کے لیے محمود آباد سے میر عالم تک ٹینکی پر ایک سلسلہ لنک پل کی منظوری دے۔ اس پروجیکٹ پر 700 تا 800 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: