ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کیوں ہے دکن کے لوگوں میں 'مرگ' کی اہمیت ، جانئے کچھ خاص باتیں

دکن کے باہر پورے ملک میں مرگ اس حوالہ سے جانا جاتا ہے کہ اس دن ہر سال حیدرآباد میں فش میڈیسن تقسیم کی جاتی ہے ، جسے کھانے کیلئے دور دراز سے لاکھوں لوگ حیدرآباد کا سفر کرتے ہیں ۔

  • Share this:
کیوں ہے دکن کے لوگوں میں 'مرگ' کی اہمیت ، جانئے کچھ خاص باتیں
کیوں ہے دکن کے لوگوں میں 'مرگ' کی اہمیت ، جانئے کچھ خاص باتیں

جنوبی ہند یا دکن کے علاقہ میں موسم گرما کے اختتام اور موسم بارش کے آغاز کو  'مرگیسرا کارتی' کہا جاتا ہے ، جو عوام میں مرگ کے نام سے مشہور ہے ۔ تاریخی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس دن دکن کے علاقہ میں تہوار کا سماں ہوتا تھا ۔ چونکہ اس علاقہ کی معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے ، اس لئے سخت گرمی کے بعد موسم بارش کو خوش آمدید کہنے کے لئے اس کے آغاز پر خوشی منائی جاتی تھی ، جس کا رواج آج بھی ہے ۔  قطب شاہی خاندان کے دور سے مرگ کے دن بطور خوشی مچھلی یا گوشت کھائی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس دن گوشت مچھلی کھانے سے دائمی امراض جیسے دمہ کے مریضوں کو آرام ملتا ہے ۔


دکن کے باہر پورے ملک میں مرگ اس حوالہ سے جانا جاتا ہے کہ اس دن ہر سال حیدرآباد میں فش میڈیسن تقسیم کی جاتی ہے ، جسے کھانے کیلئے دور دراز سے لاکھوں لوگ حیدرآباد کا سفر کرتے ہیں ۔ ہر سال مرگ کے دن زندہ مچھلی کے بچہ میں دوا  ملا کر کھلانے کی روایت پرانے شہر حیدرآباد کے ایک گھرانے بتینی گوڈ نے 1845 میں شروع کی تھی ۔ یہ خاندان اس طرح بنائی گئی دوا کو 'فش پراسادم' کے نام سے ہر سال ہزاروں لاکھوں میں مفت تقسیم کر تا ہے ۔ یہ پرشاد يا دوا کھانے کے لیے بلا لحاظ مذہب پورے ملک سے لوگ حیدرآباد آتے تھے ۔


دکن کے باہر پورے ملک میں مرگ اس حوالہ سے جانا جاتا ہے کہ اس دن ہر سال حیدرآباد میں فش میڈیسن تقسیم کی جاتی ہے ۔
دکن کے باہر پورے ملک میں مرگ اس حوالہ سے جانا جاتا ہے کہ اس دن ہر سال حیدرآباد میں فش میڈیسن تقسیم کی جاتی ہے ۔


لیکن گزشتہ 175 سال سے بلا وقفہ تقسیم کی جانے والی یہ خاص دوا اس سال کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشہ کی وجہ سے تقسیم نہیں کی جا رہی ہے ۔ بتینی خاندان کے بزرگ ہری ناتھ گوڑ نے اپیل کی تھی کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا غیر معمولی حالات کی وجہ سے اس سال فش پرسادم تقسیم نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ اس کے لئے حیدرآباد نہ آئیں ۔

اس سال  دکن شالیواہانہ کیلنڈر کے مطابق مرگ  8  جون کو تھا ۔ اس کیلنڈر کو آج بھی مراٹھی ، کونکنی ، کنڑ اور تلیگو بولنے والے علاقوں کے کسان موسم کی تبدیلی کے ایام کی شناخت کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
First published: Jun 08, 2020 10:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading