உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں کی منافرت، Muslimfuit sellers کی بائیکاٹ کی اپیل کی، اویسی نے کی مذمت

    Youtube Video

    Karnataka boycott Muslims fruit sellers: اب شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔حکومت نے اس اپیل سے خود کو الگ کرلیا ہے لیکن ایم آئی ایم اورجے ڈی ایس نے بومئی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

    • Share this:
      Karnataka boycott Muslims fruit sellers: کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں کی منافرت اور اشتعال انگیزی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔حکومت نے اس اپیل سے خود کو الگ کرلیا ہے لیکن ایم آئی ایم اورجے ڈی ایس نے بومئی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

      کرناٹک میں حجاب ،حلال کٹ ،لاؤڈاسپیکر سے اذان کے بعد مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی منافرت اور اشتعال انگیزی کی تازہ ترین کڑی کے تحت ہندو شدت پسند تنظیموں نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمان پھل فروشوں سے خریداری نہ کریں تاکہ پھلوں کے کاروبار پر مسلمانوں کی مبینہ اجارہ داری ختم ہوسکے۔ ہندو جاگرتی سمیتی کے کوارڈینیٹر چندرو موگر نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندو دکانداروں سے ہی پھل خریدیں۔

      Ramazan 2022: کھجور قدرت کا ایک انمول تحفہ، افطار میں اچھا ذائقہ اور فوائد حاصل کرنے کیلئے بنائے یہ ڈش



       

      ایک دیگر شدت پسند ہندو رہنما پارس ناتھ سمبارگی نے بھی مسلم پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ہندو شدت پسند تنظیم رام سینانے بھی ہندوؤں سے مسلم پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے بائیکاٹ کی اپیل کو ملک سے غداری قراردیا جبکہ ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسلم پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کو مسلمانوں کو اچھوت بنانے کی کوشش سے تعبیرکیا ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض مفاد پرست عناصر مسائل کو بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں اورحکومت اس کے یکسر خلاف ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: روزے دار سحری میں پئیں یہ 5 ہائی High Calorie Shakes، دن میں کم لگے گی بھوک۔پیاس

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: