உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hijab Row: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی حجاب کے حق میں پرجوش احتجاج، ’لباس کی آزادی ہمارا حق‘

    Youtube Video

    احتجاج کرنے والے طلبا نے کہا ’’ہم حکومت سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے حجاب پر پابندی نہ لگائی جائے۔ ہماری بات سنی جائے۔ ہم اپنا حجاب نہیں اتاریں گے، ہم اسے برسوں سے پہن رہے‘‘۔

    • Share this:
      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) کے طلبا نے کرناٹک حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف منظم انداز میں مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کرنے والے طلبا کی اکثریت حجاب پہنے ہوئے یعنی طالبات تھی۔ انھوں نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے اور جو چاہیں پہننے کی آزادی کا مطالبہ کیا۔

      اتر پردیش کے علی گڑھ میں اے ایم یو (AMU) کے داخلی دروازے کے باہر پولیس تعینات تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے جب لڑکیوں کو کیمپس کی سڑک پر مارچ کیا تو انہیں لے گئے۔ طلبا نے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے ’نعرہ تکبیر اللہ اکبر‘ (Nara-e Takbeer Allahu Akbar) اور ’لا الہ الا اللہ‘ (La Ilaha Ilalah) کے نعرے لگائے۔ ان میں سے کچھ نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر لکھا تھا کہ ’ہم کرناٹک کے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی پیش کرتے ہیں‘، ’اسلامو فوبیا کو روکیں (Stop Islamophobia)‘، اور ’لیڈی زندہ باد انسپائرز‘

      انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والے طلبا کے حوالے سے کہا ’’ہم حکومت سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے حجاب پر پابندی نہ لگائی جائے۔ ہماری بات سنی جائے۔ ہم اپنا حجاب نہیں اتاریں گے، ہم اسے برسوں سے پہن رہے ہیں۔ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔ لوگ اسے ہندو مسلم مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کیا پہننا جائے اور کیا نہیں اسے ہم خود طئے کریں گے‘‘۔

      اس ہفتے کے شروع میں کرناٹک کے ایک کالج میں زعفرانی اسکارف پہنے لڑکوں کے ایک گروپ کی طرف سے حجاب پہنے طالبہ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ کرناٹک کے کئی اضلاع میں خواتین کے حجاب پہن کر کالجوں میں جانے کے اپنے حق کے لیے لڑنے والی خواتین کے رد عمل میں زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے گروہوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

      حجاب کیس:

      کرناٹک میں حجاب (سر پر اسکارف) کا تنازع 1 جنوری 2022 کو شروع ہوا، جب اڈوپی ویمنز پری یونیورسٹی کالج میں مسلم سکول کی طالبات کو داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ وہ حجاب پہنتی تھیں۔ اس کے بعد سے کرناٹک بھر میں متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں مسلم لڑکیوں نے حجاب پہن کر سکول جانا شروع کر دیا ہے اور ہندو طالبات نے احتجاج کے طور پر زعفرانی شالیں پہننا شروع کر دی ہیں۔

      اس ہفتے کے شروع میں لڑائی پرتشدد ہو گئی۔ یہ مسئلہ اب ملک کے کئی حصوں تک پھیل چکا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: