உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'حجاب برقع سیاہ دور کی نشانی'، Taslima Nasreen نے کہا : یونیفارم سول کوڈ کا لاگو ہونا ضروری

    'حجاب برقع سیاہ دور کی نشانی'، Taslima Nasreen نے کہا : یونیفارم سول کوڈ کا لاگو ہونا ضروری (Image- Twitter)

    'حجاب برقع سیاہ دور کی نشانی'، Taslima Nasreen نے کہا : یونیفارم سول کوڈ کا لاگو ہونا ضروری (Image- Twitter)

    Taslima Nasreen reacts on Hijab: متنازع بنگلہ دیشی رائٹر تسلیمہ نسرین (Taslima Nasreen) نے حجاب (Hijab) کے معاملہ پر اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے حجاب کو سیاہ دور کا پٹہ قرار دیا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : متنازع بنگلہ دیشی رائٹر تسلیمہ نسرین (Taslima Nasreen) نے حجاب  (Hijab) کے معاملہ پر اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے حجاب کو سیاہ دور کا پٹہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برقع یا حجاب کبھی بھی عورت کی پسند نہیں ہوسکتا ہے ۔ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ سیاسی اسلام کی طرح اب حجاب بھی سیاسی مسئلہ ہوگیا ہے ، لیکن مذہب کا حق ، تعلیم کے حق  (Right to Education)  کے اوپر نہیں ہے ۔

      بنگلہ دیشی رائٹر تسلیمہ نسرین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرناٹک کے اسکول و کالج میں حجاب کو لے کر اختلافات جاری ہیں ۔ وہیں اس معاملہ پر ملک کی سیاست میں ہندو بنام مسلم کی سیاست بھی شروع ہوگئی ہے ۔

      حجاب کے معاملہ پر تسلیمہ نسرین نے ایک نیوز پلیٹ فارم پر اپنے خیالات شیئر کئے ۔ اس میں انہوں لکھا کہ مسلم خواتین کو برقع میں دیکھنا بالکل سیاہ دور کے پٹے کی طرح ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ اس تنازع کو ختم کرنے کیلئے یکساں سول کوڈ اور یکساں ڈرس کوڈ ہونا بہت ضروری ہے ۔ مذہب کا حق تعلیم کے حق سے بڑا نہیں ہے ۔

      وہیں اس معاملہ پر سپریم کورٹ میں مفاد عاملہ کی عرضی دائر کرکے مرکز ، ریاست اور مرکز کے زیر انتظام خطوں سے سبھی تعلیمی اداروں میں ٹیچرس ، اسٹاف اور طلبہ کیلئے کامن ڈریس کوڈ لاگو کرنے ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، تاکہ اسکول اور کالج میں مساوات اور قومی اتحاد برقرار ہے ۔

      اس سے پہلے عدالت عظمی نے کہا تھا کہ وہ ہر ایک شہری کے آئینی حقوق کا تحفظ کرے گی اور اس معاملہ کو مناسب وقت پر اٹھائے گی ۔ فی الحال اس معاملہ کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت چل رہی ہے ۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں اب چودہ فروری کو اس معاملہ پر اگلی سماعت ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: