ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جاوید اختر کے ٹوئٹ پر بھڑکے سماجوادی رکن پارلیمنٹ، کہا- اذان پر دخل اندازی برداشت نہیں

85 سال کے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جاوید اختر پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اذان پر تو ٹوئٹ کیا، لیکن شراب کی فروخت کو لے کر کچھ نہیں کہا۔

  • Share this:
جاوید اختر کے ٹوئٹ پر بھڑکے سماجوادی رکن پارلیمنٹ، کہا- اذان پر دخل اندازی برداشت نہیں
جاوید اختر کے ٹوئٹ پر بھڑکے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق۔ فائل فوٹو

سنبھل: عالمی وبا کورونا وائرس (COVID-19) کے سبب پورے ملک میں لاک ڈاون (Lockdown) نافذ ہے۔ اسی درمیان رائٹر اور مشہور نغمہ نگار جاوید اختر کے اذان کو لے کر کئے گئے ٹوئٹ پر منگل کو سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور قد آور مسلم رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمن برق بھڑک گئے۔ سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ جاوید اختر کی اس طرح کی باتوں کو مسلمان برداشت نہیں کرے گا۔


سماجوادی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق نے کہا، ’جاوید اختر بھلے ہی کوئی بڑے آدمی ہوں، لیکن انہیں اذان کے بارے میں لکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اذان برسوں سے ہوتی آئی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ہے، چاہے کوئی بھی قانون کیوں نہ ہو۔ یہ شریعت کا حصہ ہے’۔ شفیق الرحمن برق نے کہا کہ نغمہ نگار جاوید اختر کے معاملے میں مسلم مذہبی رہنما ہی فیصلہ کریں گے۔ 85 سال کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر برق نے جاوید اختر پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اذان پر تو ٹوئٹ کیا، لیکن شراب کی فروخت کو لے کر کچھ نہیں کہا۔ لاک ڈاون میں شراب کی فروخت کی جارہی ہے اور لوگ پی کر سڑکوں پر پڑے ہیں۔




واضح رہے کہ اس سے قبل جاوید اختر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ’ہندوستان میں تقریباً 50 برسوں تک لاوڈ اسپیکر پر اذان حرام تھی۔ اس کے بعد یہ حالت ہوگئی اور اس قدر حلال ہوئی کہ اس کا کوئی دائرہ ہی نہیں رہی۔ اذان دینا ٹھیک ہے، لیکن لاوڈ اسپیکر پر اسے دینا دوسروں کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کم از کم اس بار وہ اسے خود کریں گے’۔ جاوید اختر کے اس متنازعہ بیان کے بعد ان کی سخت تنقید کی گئی۔ جاوید اختر کا کہنا تھا کہ اذان مذہب کا اٹوٹ حصہ ہے، لاوڈ اسپیکر کا نہیں، ایسے میں اب اپنے ٹویٹ کو لے کر جاوید اختر ٹرولرس کے نشانے پر آگئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ٹرول ہونے کے بعد جاوید اختر نے اپنی صفائی میں ایک دوسرا ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ مندر ہو مسجد، اگر آپ کسی تیوہار پر لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، لیکن اس کا استعمال مندر یا مسجد میں روزانہ نہیں ہونا چاہئے۔
سوشل میڈیا پر ٹرول ہونے کے بعد جاوید اختر نے اپنی صفائی میں ایک دوسرا ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ مندر ہو مسجد، اگر آپ کسی تیوہار پر لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، لیکن اس کا استعمال مندر یا مسجد میں روزانہ نہیں ہونا چاہئے۔


سوشل میڈیا پر اس طرح کے رد عمل کو دیکھتے ہوئے جاوید اختر نے اپنی صفائی میں ایک دوسرا ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ مندر ہو مسجد، اگر آپ کسی تیوہار پر لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ، لیکن اس کا استعمال مندر یا مسجد میں روزانہ نہیں ہونا چاہئے۔ تقریبا ایک ہزار سال سے زیادہ وقت سے اذان لاوڈ اسپیکر کے بغیر دی جارہی ہے ۔ اذان آپ کے مذہب کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ، کسی گیزیٹ کا نہیں ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: May 12, 2020 05:45 PM IST