لکھنؤ : دینی تعلیم کو دنیاوی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں کیاگیا توکیا ہوگا: دیکھیں یہ ویڈیو

تعلیمی نظام وضع کیاجائے جس سے مدارس کی مقصدیت بھی فوت نہ ہو اور نئی نسل کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔

Jul 04, 2019 01:14 PM IST | Updated on: Jul 04, 2019 02:33 PM IST
لکھنؤ : دینی تعلیم کو دنیاوی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں کیاگیا توکیا ہوگا: دیکھیں یہ ویڈیو

دینی مدرسہ کی فائل فوٹو

اقلیتی تعلیمی اداروں اور مدارس اسلامیہ سے جڑے لوگوں کا مانناہے کہ ۔اگر دینی تعلیم کو دنیاوی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں کیاگیا توآنے والے وقت میں اقلیتی طلبہ کے لئے مسائل مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایسا تعلیمی نظام وضع کیاجائے جس سے مدارس کی مقصدیت بھی فوت نہ ہو اور نئی نسل کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔ مدارس کی جدید کاری کے پس منظر میں حکومت کے کیا منصوبے اور مقاصد ہیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی محض مدارس کی تعلیم کے ذریعے موجودہ عہد میں طلبا کے سماجی معاشی اور دیگر اہم مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اگر ہو بھی سکتے ہیں تو کیا زندگی کا وہ وقار ومعیار بھی قائم رہ سکتاہے جو دوسری قوموں اور طبقوں کے لوگوں کو حاصل ہے۔

حکومت نے جدید کاری کے نما پر مدارس کے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اچھی کوشش کی لیکن ساتھ ہی مدارس کا بنیادی تشخص اور مقصد بھی کہیں متاثر ہوا اس لئے ابھی تک سرکاری سطح پر کئے جانے والے اقدامات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتاہے،،تاہم لوگ یہ مانتے ہیں کہ بغیر عصری تعلیم کے صرف مذہبی تعلیم زندگی کے تمام مسائل ھل نہیں کرپائےگی۔ اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب تک تشکیک سفر کرتی رہے گی اس وقت تک مطلوبہ ہم آہنگی کا حصول ناممکن ہے۔۔کہیں نہ کہیں مدارس سے منسلک لوگوں کو اس باب میں خود پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ دیکھیں لکھنئو سے طارق قمر کی یہ خاص رپورٹ

Loading...

Loading...