உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    H / L 2 – vivo کی 'Switch Off' مہم ہے آپ کے نئے سال کے حل کی مستند ترین ابتدائی شروعات

    H / L 2 – vivo کی 'Switch Off' مہم ہے آپ کے نئے سال کے حل کی مستند ترین ابتدائی شروعات

    سال 2020 دوسرے سالوں کی بنسبت ایک بہت دشوار سال رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہم نے اسمارٹ فون پر بہت سارا وقت صرف کیا ہے، حالانکہ ہم عالمی وبا کے دوران اپنے گھر کے اندر محفوظ رہے۔ سخت لاک ڈاؤن کے ابتدائی مہینوں کے میں مربوط اور اپ ڈیٹ رہنا ہمارا ایک واحد وسیلہ تھا۔

    • Share this:
      سال 2020 دوسرے سالوں کی بنسبت ایک بہت دشوار سال رہا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہم نے اسمارٹ فون پر بہت سارا وقت صرف کیا ہے، حالانکہ ہم عالمی وبا کے دوران اپنے گھر کے اندر محفوظ رہے۔ سخت لاک ڈاؤن کے ابتدائی مہینوں کے میں مربوط اور اپ ڈیٹ رہنا ہمارا ایک واحد وسیلہ تھا۔ اتنا زیادہ کہ ’ڈومیسٹ ڈے اسکرولنگ‘ ان لوگوں کی وضاحت کے لئے ایک جائز اصطلاح بن گئی، جنہوں نے کووڈ- 19 سے متعلق جنونی طور پر ہر چیز کو تلاش کیا۔ ہم حقیقت میں اپنے آلات کو بند نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کسی اہم چیز سے محروم ہو جائیں۔
      تاہم، انجانے میں تمام اضافی اسکرول ہماری ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس بارے میں پہلے سے نہیں جانتے تھے تو اب ہمارے پاس مضبوط تخمینوں سمیت اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ ہم نے اپنے آلات پر کتنا وقت صرف کیا ہے اور کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوسرے ایڈیشن میں vivo کے شکریہ کا ایک عنوان شامل ہے، جس کا عنوان ہے"اسمارٹ فونز اور انسانی رشتوں پر اس کے اثرات"2020، جس کے تحت ہم واضح طور پر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ سماجی فاصلے کے اس سال کے دوران ہمارے اسمارٹ فونز ہماری زندگی کی لکیر کیسے بنیں۔ تحقیق اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مختلف وسعتوں کا تخمینہ کرتی ہے اور ان پر روشنی ڈالتی ہے۔ استعمال کی حد، استمال کے ضوابط پر لاک ڈاؤن کے اثرات، ذاتی صحت اور سماجی تعلقات پر اس کے اثرات۔
      اس تحقیق کے کچھ اہم حقائق یہ ہیں جو ہندوستان کے 8 بڑے شہروں مثلاً، دہلی، ممبئی، کولکاتا، بنگلور، چنئی، حیدر آباد اور پونے میں کی گئی تھی، جن میں رد عمل ظاہر کرنے والے 2000 خاص عمر کے افراد اور یہ اور آبادیات شامل تھے، جن میں 30 فیصد خواتین اور 70 فیصد مرد تھے۔
      2020 کی تحقیق کے نتائج
      اس تحقیق سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 66 فیصد ہندوستانی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا اسمارٹ فون ان کی زندگی کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔ مزید یہ کہ، مجموعی طور پر 70 فیصد ہندوستانی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر ان کے اسمارٹ فون کا استعمال بڑھتا رہا تو اس کا اثر ان کی ذہنی/جسمانی صحت پر پڑنے کا امکان ہے۔
      اس کے علاوہ، جواب دہندگان میں سے 74 فیصد نے کہا کہ وقتاً فوقتاً اپنا موبائل فون بند کر کے آدمی اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار سکتا ہے۔ تاہم، صرف 18 فیصد صارفین ہی اپنے فون کو خود سے بند کرتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ جب آپ کو معلوم ہوگا کہ 84 فیصد صارفین اپنے فونز کو اپنے آرام گاہ میں رکھتے ہیں اور 71 فیصد افراد کھانا کھاتے وقت بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔
      2019 کے بالمقابل زیادہ
      اس سال پیش آنے والے واقعات کو دیکھ کر 2019 پرانے زمانے کی طرح لگتا ہے، لیکن اسمارٹ فون کے استعمال میں اضافہ کی صورت میں یہ تعداد ناقابل تردید ہیں۔ اسی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ لوگوں نے گذشتہ سال اپنے اسمارٹ فونز پر 4.94 گھنٹے صرف کیے جو مارچ 2020 تک 5.48 گھنٹے تک بڑھ گئے اور یومیہ 6.85 گھنٹوں تک پہنچ گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایک سال میں اسمارٹ فونز پر صرف ہونے والے اوسط یومیہ وقت 39 فیصد تک بڑھی ہے!
      دوسرے اعداد و شمار جس میں اچھال آئے ہیں اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ صرف 33 فیصد جواب دہندگان اپنے اسمارٹ فونز کے بغیر ہی چڑچڑا پن یا تُنُک مِزاج کا شکار ہوئے، جس کی تعداد 2020 میں دوگنا ہونے سے کہیں زیادہ 74 فیصد ہے۔ جہاں 2019 میں بیدار ہونے کے 15 منٹ کے اندر 52 فیصد جواب دہندگان نے اپنے اسمارٹ فون چیک کیے، وہیں اس سال اس تعدامیں 84 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔
      vivo India اور 'Switch Off' مہم
      جدید عالمی اسمارٹ فون برانڈ، vivo نے اس مہم کا آغاز کیا تاکہ لوگوں کو اسمارٹ فون کے موافق فوائد کے بارے میں حساس کیا جا سکے اور اس پیغام کو جتنا زیادہ ہو سکے لوگوں تک پہنچایا جائے کہ کبھی کبھار اپنے فون کو ‎#SwitchOff‎ کرنا کیوں ضروری ہے۔
      تحقیق تو صرف ایک طریقہ ہے ان تعداد کو بڑھاوا دینے اور ان میں اضافہ کرنے کا جن کے بارے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو پہلے سے ہی شک تھا کہ اسمارٹ فون کے استعمال میں اس قدر اضافہ ہوگا۔
      vivo India کے ڈائریکٹر برانڈ اسٹراٹیجی نپون ماریہ (Nipun Marya) نے اس تحقیق کا خلاصہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ، "سال 2020 غیر معمولی رہا- جس سال کے بارے میں کسی نے تصور بھی نہیں کيا تھا۔ معاشرتی طور پر دور رہنے کی بنا پر وبائی مرض نے ہمیں آگے بڑھانے کے لئے ابھارا، اور پھر اسمارٹ فون ہر چیز کے لئے مرکزی اعصابی نظام کے طور پر ابھرا۔ تاہم، ضرورت سے زیادہ اس کے استعمال سے صارفین میں لت پیدا ہوگئی ہے اور جس کا نتیجہ انسانی رشتوں اور طرز عمل پر پڑ رہا ہے۔
      اس لت کو چھڑانے کے لئے، vivo India نے ایک بہت ہی واضح اور آسان مقصد (جس سے لوگوں کی زندگی میں خوشیاں واپس آ جائے گی) سے ایک ’Switch Off‘ مہم شروع کی ہے۔ مذکورہ بالا تعداد واضح طور پر اسمارٹ فونز پر منحصر رہنے کے عمل کو کم کرنے کی ضرورت کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر آج کے بعد کی وبائی دنیا میں اسے ہمارے ’نئے معمول‘ کا ایک حصہ بنا کر۔
      کوئی مقررہ مدت یا وقت نہیں ہے کہ آپ کو اپنے اسمارٹ فون سے آف ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر فرد کی ضروریات اور تقاضے مختلف ہوتے ہیں، مہم آپ کو حوصلہ افزائی کرتی ہے اور آپ کے ہر دن اپنے آلے پر خرچ کرنے والے وقت کو کم کرنے کے لئے ذہنی طور پر کاروائی کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لہٰذا، اس نئے سال میں، اپنے اسمارٹ فون کو اپنی زندگی کا حاکم نہ بننے دیں۔ کچھ وقت نکالنے، اپنی لت کو کم کرنے اور اپنے اسمارٹ فون کے ساتھ صحتمند رشتہ برقرار رکھنے کا عزم کریں۔ ایسا کرنا یقینی طور پر ممکن ہے کیونکہ اس میں قوت ارادیت اور عزم سے زیادہ کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ڈسکلیمر: یہ ایک مشترکہ پوسٹ ہے)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: