جموں وکشمیرکا پرچم بن گیا تاریخ کا حصہ، سری نگرسکریٹریٹ پرلہرایا صرف ترنگا

سری نگرکی سول سکریٹریٹ کی عمارت سے ریاست کا جھنڈا ہٹا دیا گیا ہے۔ اب وہاں صرف  قومی پرچم ترنگا لہرا رہا ہے جبکہ وہاں پہلے دو پرچم لہرانے کی آزادی تھی۔

Aug 25, 2019 08:04 PM IST | Updated on: Aug 25, 2019 08:22 PM IST
جموں وکشمیرکا پرچم بن گیا تاریخ کا حصہ، سری نگرسکریٹریٹ پرلہرایا صرف ترنگا

سری نگرکی سول سکریٹریٹ کی عمارت سے ریاست کا جھنڈا ہٹا دیا گیا ہے۔ اب وہاں صرف قومی پرچم ترنگا لہرا رہا ہے۔

جموں وکشمیرسےدفعہ 370 کےبیشترالتزام ہٹائےجانےاورریاست  کومرکزکےزیرانتظام دو خطوں میں تقسیم کئےجانےکے ہندوستانی حکومت کےفیصلےکے بعد سری نگرکی سول سکریٹریٹ کی عمارت سے ریاست کا جھنڈا ہٹا دیا گیا ہے۔ اب وہاں صرف قومی پرچم ترنگا لہرا رہا ہے۔ جموں وکشمیرکوخصوصی اختیارات دینے والےآرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35 اے ہٹائےجانےکے بعد سری نگرکی سول سکریٹریٹ کی عمارت سےریاست کا جھنڈا ہٹا دیا گیا ہے۔

اس سےقبل تک جموں وکشمیرکوپہلےدوپرچم پھہرانے کی آزادی تھی۔ یہاں قومی ترنگا کے ساتھ ساتھ ریاست کا پرچم بھی لہرایا جاتا تھا، لیکن اب یہ جھنڈا تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ جموں وکشمیرریاست کے پرچم کا رنگ لال تھا اوراس پرکشمیروادی، جموں اورلداخ کی عکاسی کرنےکےلئے تین دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ اس جھنڈے میں ہل ریاست کے کسانوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ یہ جھنڈا جموں وکشمیرکی خاص شناخت ظاہرکرتا تھا۔ 1952 میں جموں وکشمیرریاست کی آئین سازاسمبلی نےاس پرچم کواپنا آفیشیل پرچم بنایا تھا۔

Loading...

جموں وکشمیر ریاست میں پہلے ہندوستان کا قومی پرچم اور جموں وکشمیر ریاست کا پرچم ایک ساتھ لہرایا جاتا تھا۔ جموں وکشمیر ریاست میں پہلے ہندوستان کا قومی پرچم اور جموں وکشمیر ریاست کا پرچم ایک ساتھ لہرایا جاتا تھا۔

اس مہینے کی شروعات میں حکومت نے دفعہ 370 کےتحت جموں وکشمیرکے خصوصی درجہ کومنسوخ کردیا تھا اورریاست کومرکزکے زیرانتظام دو خطوں(جموں وکشمیراور لداخ) میں تقسیم کردیا تھا۔

مرکزی حکومت کےاس فیصلےکےبعد سے وادی میں کئی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس میں موبائل، ٹیلی فون اورانٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی تھیں۔ ساتھ ہی اسکولوں کوبھی بند کردیا گیا ہے۔ حالانکہ اب کشمیروادی کے بیشترعلاقوں سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں، لیکن لا اینڈ آرڈربنائے رکھنےکےلئے سیکورٹی اہلکاراب بھی وہاں تعینات ہیں۔ کشمیرمیں بازارمسلسل 21 ویں دن بھی بند رہے، دوکانیں اوردیگرتجارتی ادارے بھی بند رہے۔ وہیں عوامی گاڑیاں بھی سڑکوں سے ندارد رہے۔ ہفتہ واری بازاربھی نہیں لگے۔

Loading...