உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vaccination: تمام بالغوں کیلئے کووڈ ویکسین کوکردیاجائے لازمی، ویکسین کا مفت انتظام کیاجائے

    ویکسین نے بیسویں صدی میں دو سب سے زیادہ خوفناک بیماریوں کا مقابلہ کیا ہے۔

    ویکسین نے بیسویں صدی میں دو سب سے زیادہ خوفناک بیماریوں کا مقابلہ کیا ہے۔

    یہ ہمارے لیے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے اور سب کے لیے کورونا ویکسین کو لازمی قرار دینے کا وقت ہے۔ ابھی تک ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ ویکسین کام کرتی ہیں اور کسی بھی نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ غیر ویکسین والے لوگ جہاں بھی سفر کرتے ہیں، ان کے پاس انفیکشن لے جانے والے ویکٹر ہوتے ہیں۔

    • Share this:
      عامر اللہ خان
      ہم ایسے وقت میں جی رہے ہیں جب ریاست سے قومی مفاد میں فیصلہ کن اور غیرمتزلزل سمجھوتہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ پھر ہمیں تمام بالغوں کے لیے کورونا وائرس (COVID-19) کی ویکسین کو لازمی کرنے والے حکومتی احکامات جاری کرنے سے کون روک رہا ہے؟ جب کہ ایک آزاد معاشرے میں کسی کا انفرادی سلوک دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے تو جبر جائز ہے۔ تقریباً نصف آبادی تک ویکسینیشن کے بعد ہمیں جلدی کرنے کی ضرورت ہے۔ کل آبادی کو ویکسینیشن کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بقیہ کام مہینے کے آخر تک مکمل کرلینا چاہیے۔ اگرچہ رسد کی دشواریاں ہیں، جس کی وجہ سے اس سال کے شروع میں ویکسینیشن کی رفتار متاثر ہوئی، اسی لیے ہم طلب کے بھی چیلنجز کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

      یہ ہمارے لیے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے اور سب کے لیے  کورونا ویکسین کو لازمی قرار دینے کا وقت ہے۔ ابھی تک ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ ویکسین کام کرتی ہیں اور کسی بھی نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ غیر ویکسین والے لوگ جہاں بھی سفر کرتے ہیں، ان کے پاس انفیکشن لے جانے والے ویکٹر ہوتے ہیں۔ ویکسین شدہ افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں لیکن ان کے لیے اور ان کے پڑوس دونوں کے لیے بہت کم خطرہ ہے۔ بائیو ایتھکس (bioethics) پر زیادہ تر بحثوں میں اب یہ بات بڑے پیمانے پر قبول کی گئی ہے کہ لازمی ویکسینیشن اس وقت جائز ہوتی ہے، جب وہ بیماری کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے یا جب وہ سنگین طور پر متعدی اور قابل منتقیلی اینٹی جینز کے خلاف لڑتی ہے۔

      ویکسین اور عالمی رجحانات:

      ویکسین کام کرتی ہے۔ ویکسین نے بیسویں صدی میں دو سب سے زیادہ خوفناک بیماریوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ان میں ایک چیچک ہے، جو مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور دوسری بیماری پولیو ہے، جو ویکسین کی وجہ سے ختم ہونے کے مرحلہ پر ہے۔ جو پوری آبادی کو دی گئی تھیں۔ تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔ اس کے لیے ایک سلسلہ وار مواصلاتی مہم شروع کی گئی۔ مشہور شخصیات، پادری اور مذہبی رہنماوؤں کو بڑے پیمانے پر اس مہم میں شامل کیا گیا۔ ہندوستان تقریباً دس سال سے پولیو سے محفوظ ہے۔

      جہاں تک کورونا وائرس سے حفاظت کا تعلق ہے۔ اسی ضمن میں آسٹریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ فروری 2022 سے ویکسینیشن کو لازمی کر دے گا۔ جرمنی بھی اس کی پیروی کر سکتا ہے۔ انڈونیشیا نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ویکسینیشن کی حیثیت کی بنیاد پر سماجی اسکیموں کو مشروط بنائے گا۔ کینیڈا میں سرکاری ملازمین اور نیوزی لینڈ میں اساتذہ کے پاس مکمل ویکسینیشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کچھ امریکی ریاستوں اور برطانیہ میں سرکاری کارکنوں، خاص طور پر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے لیے بھی ایسی ہی شرائط رکھی گئی ہیں۔

      نئے ویرینٹس کے خطرے کے پیش نظر اور وبائی مرض کا کوئی خاتمہ نظر نہ آنے کے باعث زیادہ سے زیادہ ممالک اس راستے کو اختیار کرسکتے ہیں۔ ہندوستان میں مرکزی حکومت نے عدالت میں کہا ہے کہ کووڈ ویکسین نہ تو لازمی ہے اور نہ ہی اسے سماجی خدمات یا فوائد سے جوڑا گیا ہے۔

      ہندوستان کے لیے چیلنجز:

      ہندوستان کی صورتحال کافی نازک ہے۔ ہم ابھی تک ان ممالک کے سرفہرست نصف میں بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ٹیکے لگائے ہیں۔ تاہم اہل بالغ آبادی کی ہماری 50 فیصد کوریج عالمی اوسط شرح 42 فیصد سے تھوڑی زیادہ ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق آج تک ہندوستان میں 4.7 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں دوسری لہر کے دوران ہوئی جب ویکسین کی تیاری اور ٹیکہ لگانا شروع ہو گیا تھا لیکن سپلائی (رسد) میں فرق تھا۔ اس عرصے کے دوران رپورٹ ہونے والی اموات میں زیادہ تر غیر ویکسین شدہ تھے اور ان لوگوں کی بھی ایک چھوٹی تعداد تھی، جنہوں نے پہلی خوارک حاصل کی تھی۔

      اسی دوران سپلائی کی رکاوٹوں کو کافی حد تک حل کیا گیا ہے، لیکن کچھ اب بھی چیلنجز برقرار ہیں۔ مثال کے طور پر پرائیویٹ سیکٹر کے لیے 150 روپے کی متجسس سروس چارج پرائس کیپ (service charge price cap) کو لے لیجئے، مارکیٹ کی کسی بھی ترغیب کو چھیننے کے لیے ویکسینیشن مہم میں شامل ہونا پڑ سکتا ہے۔ بہر حال نجی شعبے کو 25 فیصد آبادی کو ویکسین لگانے کا کام دینا اسراف ہے۔ کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ لوگ پرائیویٹ سیکٹر کے اسپتالوں میں ویکسین کے لیے ادائیگی کریں گے۔ جب کہ دوسری طرف سرکاری اسپتالوں میں ویکسین مفت دستیاب ہے اور ویکسین حاصل کرنے کا کوئی حکومتی حکم بھی نہیں ہے۔ ویکسین کا مفت انتظام کیا جانا چاہیے۔ جہاں ریاست مفت انتظام کرنے سے قاصر ہے، وہاں پرائیویٹ سیکٹر کو اپنی خدمات فراہم کرنے کی ترغیب دینا ہوگی۔

      تاہم سب سے بڑا چیلنج ویکسین کے خلاف مزاحمت اور ہچکچاہٹ ہے۔ یہ مکمل طور پر بلاجواز نہیں ہے اور لوگوں کو اپنے سسٹم میں غیر ملکی سیالوں کا انجیکشن لگانے پر شدید اعتراض ہو سکتا ہے۔ زبردستی کا متبادل، کسی مسئلے کے حل کے بجائے خطرے کی علامت ہے۔ اس تجویز پر امریکہ میں طویل بحث ہوئی اور کچھ کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ایسی مراعات بھی پیش کیں۔

      درحقیقت اس طرح کا کوئی بھی اقدام صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ کرے گا اور اس سے ویکسین کی افادیت پر بھی شکوک پیدا ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں ویکسین نہیں لگائی جائے گی، لیکن جب تک یہ تعداد آبادی کے 10 فیصد سے کم ہوجائے، جب تک پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

      عوام تک واضح پیغام بھیجا جائے کہ کے پاس ویکسین لگوانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ سیٹ بیلٹ استعمال کرنے اور ہیلمٹ پہننے پر بھی اسی طرح کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جاتی ہے۔ جب کہ ویکسین کے لیے کچھ چھوٹ ہو سکتی ہے، جیسے وہ لوگ جو کسی الرجی یا بیماری کی وجہ سے ویکسین نہیں لگوا سکتے۔

      کل آبادی کو ویکسینشن کے مقصد کے ضمن میں مختلف حلقے تنقید کریں گے لیکن جب تک حکومت کو وبائی مرض سے لڑنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے اور عوام سے ویکسین لے کر تعاون کرنے کو کہا جاتا ہے، تب تک اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ اس اقدام سے ہندوستان اور ہندوستانیوں کو کووڈ کی نئی قسموں (variants) سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور ہنگامی حالات سے بچانے میں مدد ملے گی۔

      مضمون نگار عامر اللہ خان سینٹر فار ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پریکٹس کے ریسرچ ڈائریکٹر ہیں۔ اس مضمون میں بیان کردہ خیالات مصنف کے ذاتی خیالات ہیں۔ اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: