உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو روکنا وقت کی بڑی ضرورت

    نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو روکنا وقت کی بڑی ضرورت

    نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو روکنا وقت کی بڑی ضرورت

    نئی تعلیمی پالیسی(این پی ای ) کے خلاف مدھیہ پردیش میں گزشتہ ایک سو پچاس دنوں سے جاری تحریک کو لیکر سیو پبلک ایجوکیشن کمیٹی کے زیراہتمام بھوپال میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    بھوپال: نئی تعلیمی پالیسی(این پی ای) کے خلاف مدھیہ پردیش میں گزشتہ 150 دنوں سے جاری تحریک کو لیکر سیو پبلک ایجوکیشن کمیٹی کے زیراہتمام بھوپال میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال نیلم پارک میں منعقدہ پروگرام میں سبھی مکتبہ فکر کے دانشوروں نے شرکت کی اور نئی تعلیمی پالیسی کو ملک کے آئین اور ہندستان کے سیکولر مزاج کے خلاف بتایا۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر موجودہ حکومت کے ذریعہ نہ صرف ایک خاص نظریہ کو تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ ملک کے ہزاروں سالہ سیکولر نظام پر کاری ضرب لگاتے ہوئے اسے تباہ بھی کیا جا رہا ہے۔
    جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مدت بھٹناگر نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی صرف ایک نظریہ کے نظام کو تھوپنے کی کوشش ہے اور موجودہ سیکولر نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔ حکومت کے ذریعہ گورنمنٹ سیکٹر کے اداروں کو اس لئے فروخت کیا جا رہا ہے تاکہ پسماندہ طبقات کے لوگ ریزرویشن کا مطالبہ نہ کر سکیں۔ حکومت  کے ذریعہ پوری کوشش ایک اعلی طبقے کی بالا دستی کو قائم کرنے کے ساتھ ایک خاص نظریہ کو مسلط کرنا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    اشوک گہلوت کا وزیر اعلیٰ عہدہ سے ہٹنا طے، اگست میں ہی لکھی جاچکی ہے اسکرپٹ
     یہ بھی پڑھیں۔

    ایرانی طیارہ چین کے گوانگ جھاو میں ہوا لینڈ، بم کی دھمکی نکلی جھوٹی، گھنٹوں تک مچا رہا ہنگامہ

    وہیں  تعلیمی جلسہ سے  خطاب کرتے ہوئے مشہور ڈرامہ نگار و ادیب  احمد خان  نے کہا کہ حکومت کے قول و فعل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک جانب نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ سائنس اور کامرس کے طلبا کے لئے لینگوایج سیکھنے کے مواقع کھلنے کی بات کی جا رہی ہے وہیں جب اردو کے طلبا اسکولوں اور کالجوں میں جاتے ہیں تو انہیں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ اردو کی جگہ دوسرے سبجیکٹ لے لیجئے ہمارے اردو کے اساتذہ نہیں ہیں۔ریجنل کالج میں اردو پڑھنے والے طلبا کی تعداد گیارہویں جماعت میں اٹھارہ ہے لیکن انہیں اردو پڑھنے سے روکا جارہا ہے اور ان سے سنسکرت پڑھنے پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ گیارہویں جماعت میں اسی رینجل کالج میں سنسکرت پڑھنے والے طلبا کی تعداد کل تین ہیں اور انہیں استاد مہیا کرایا جا رہا ہے۔

    ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرے اور دوسری زبانوں کی طرح اردو زبان کے طلبا کو یکساں مواقع فراہم کرے۔ وہیں سونم شرما نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتےہوئے کہا کہ یہ تحریک ملک اور ملک کے تعلیمی نظام کو بچانے کی ہے اور جب تک نئی تعلیمی پالیسی کا نفاذ بند نہیں کیا جاتا ہے ہماری تحریک جاری رہے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: