ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

100 سے زیادہ ملازمین ہونے پربنانی ہوگی کینٹین، یکم اپریل سے مودی حکومت نافذ کرے گی یہ ضوابط

مرکزی حکومت نئے لیبر قوانین کے تحت ملک میں کمپنیوں میں ملازمین کے لئےکینٹین ضروری قرار دینے اور سرکاری اسکیموں کو مضبوطی سے نافذکرنے کے لئے ویلفیئر آفیسر کی تقرری کرنے کے ضوابط طے کردیئے ہیں۔ حکومت ان نئے ضوابط کو پورے ملک میں یکم اپریل سے نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔

  • Share this:
100 سے زیادہ ملازمین ہونے پربنانی ہوگی کینٹین، یکم اپریل سے مودی حکومت نافذ کرے گی یہ ضوابط
100 سے زیادہ ملازم ہونے پر بنانی ہوگی کینٹین، یکم اپریل سے مودی حکومت نافذ کرے گی یہ ضوابط

نئی دہلی: مرکزی حکومت نئے لیبر قوانین کے تحت ملک میں کمپنیوں میں ملازمین کے لئےکینٹین ضروری قرار دینے اور سرکاری اسکیموں کو مضبوطی سے نافذکرنے کے لئے ویلفیئر آفیسر کی تقرری کرنے کے ضوابط طے کردیئے ہیں۔ حکومت ان نئے ضوابط کو پورے ملک میں یکم اپریل سے نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔


مرکزی حکومت کی طرف سے گزشتہ سال جاری پیشہ وارانہ تحفظ، صحت اور ورکنگ کوڈ 2020 میں اس بارے میں خاص التزام کئے گئے ہیں، جنہیں سبھی متعلقین (حصے داروں) کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد نافذ کیا جاسکتا ہے۔ نئے لیبر قوانین میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے تحت 100 ملازمین سے زیادہ والی کمپنیوں کو اپنے اداروں میں کینٹین رکھنا ضروری ہوگا۔ ملازمین کی اس تعداد میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والے لوگ بھی شامل کئے جائیں گے۔ وہیں کمپنیوں کو ویلفیئر آفیسر کی بھی تقرری کرنی ہوگی تاکہ کام کرنے والے ملازمین کو حکومت کی اسکیموں کا پورا فائدہ ملتا رہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے مائیگرنٹ مزدوروں کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بھی ضوابط نافذ کئے جائیں گے کہ اگر کمپنی انہیں سائٹ پر لے جارہی ہے اور کام ختم ہونے پر وہ گھر لوٹ رہے ہیں تو انہیں یاترا بھتہ دینا بھی ضروری ہوگا۔


اوور ٹائم کے ضوابط میں بھی تبدیلی


اس کے علاوہ اوور ٹائم کے ضوابط میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے ضوابط کے لحاظ سے کام کرنے کے گھنٹوں کے دوران اگر ملازم سے 15 منٹ بھی زیادہ کام کرایا گیا تو اسے اوور ٹائم مانا جائے گا۔ پہلے یہ دائرہ نصف گھنٹے ہوا کرتا تھا۔ ملازم معاہدہ پر ہو یا پھر مستقل، اس پر مسلسل پانچ گھنٹے سے زیادہ کام کا دباو نہیں بنائے جانے کے بھی التزام کئے گئے ہیں۔ کمپنی کے لئے اسے ہر پانچ گھنٹے میں نصف گھنٹے کا بریک دینا ضروری کیا جائے گا۔ ساتھ ہی بریک کا یہ وقت بھی کام کے گھنٹوں میں ہی جوڑا جائے گا۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 20, 2021 12:13 AM IST