உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آل انڈیا مجلس مشاورت کے زیر اہتمام دہلی میں میٹنگ، مسلم مسائل سے متعلق تیار کی گئی حکمت عملی

    آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے دہلی میں ایک میٹںگ منعقد کی گئی، جس میں پورے ملک کے 18 ریاستوں سے ملک کی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا مقصد ملک میں موجودہ حالات اور خاص طور پر گیان واپی معاملے کو لے کر حکمت عملی تیارکی گئی۔

    آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے دہلی میں ایک میٹںگ منعقد کی گئی، جس میں پورے ملک کے 18 ریاستوں سے ملک کی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا مقصد ملک میں موجودہ حالات اور خاص طور پر گیان واپی معاملے کو لے کر حکمت عملی تیارکی گئی۔

    آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے دہلی میں ایک میٹںگ منعقد کی گئی، جس میں پورے ملک کے 18 ریاستوں سے ملک کی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا مقصد ملک میں موجودہ حالات اور خاص طور پر گیان واپی معاملے کو لے کر حکمت عملی تیارکی گئی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے دہلی میں ایک میٹںگ منعقد کی گئی، جس میں پورے ملک کے 18 ریاستوں سے ملک کی بڑی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا مقصد ملک میں موجودہ حالات اور خاص طور پر گیان واپی معاملے کو لے کر حکمت عملی تیارکی گئی۔ ساتھ ہی اس کے لئے مشاورت نے کمیٹی کی بھی تشکیل کی، جو حکمت عملی کے تحت پورے ملک میں کام کرے گی۔

      آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق جنرل سکریٹری اور موجودہ رکن محمد سلیمان نے اس میٹنگ کے ایجنڈے اور مسلم مسائل سے متعلق پوری جانکاری دی۔ سب سے پہلے ملک میں موجودہ حالات جس طرح سے بنے، جس میں مسلمانوں کو مین اسٹریم سے الگ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس پر تنظیموں نے تبادلہ خیال کیا۔ اس میٹنگ میں جمعیۃ علماء ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جماعت اسلامی کے عہدیداران نے شرکت کی۔ ساتھ ہی مسلم ریٹائرڈ جج، ملک کے بڑے مسلم لیڈران شامل ہوئے۔

      آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے زیر اہتمام منعقدہ میٹنگ میں گیان واپی مسجد معاملے سے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی مسلم مذہبی عبادت گاہوں کو لے کر اب بابری مسجد جیسا ردعمل نہیں اختیار کیا جائے گا اور اگر کوئی زبردستی ہوئی تو بڑی قربانی دی جائے گی۔

      اس میٹنگ میں یہ بھی موضوع اٹھایا گیا کہ ملک میں تعلیمی اداروں میں بھی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی اقلیتی کردار پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی حجاب معاملے پر بھی بحث کی گئی، ملک میں ضلع عدالت کی جانب سے دیئے گئے کئی فیصلوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موضوع پر بحث کے بعد مشاورت میں دو کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جس میں ایک کمیٹی کا کنوینر مسلم خاتون کو بنایا گیا ہے۔ ان کمیٹی کا کام ملک بھر میں بنائے گئے ایجنڈے کی تشہیر کرنا ہوگا۔

      آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی دہلی میں منعقد ہوئی یہ میٹنگ ملک میں مسلمانوں کے حالات اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حالانکہ تشکیل کی گئی کمیٹی کس طرح سے کام کرے گی اور مذکور امور پر کیسے عمل ہوگا، یہ آنے والے دنوں میں عملی پیش رفت کے بعد سمجھ میں آئے گا۔

      کانپور سے سندیپ سویتا کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: