உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تریپورہ میں150مساجد کے قریب پولیس کی سخت نگرانی، ریاست کے تمام فرقوں سے قیام امن کی اپیل

    اناکوٹی کے ایس پی رتی رنجن دیبناتھ نے کہا کہ وہ شمالی تریپورہ کے ضلع میں مورتی سے متعلق ایک واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    اناکوٹی کے ایس پی رتی رنجن دیبناتھ نے کہا کہ وہ شمالی تریپورہ کے ضلع میں مورتی سے متعلق ایک واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    تریپورہ جمعیت کے صدر مفتی طیب الرحمن Mufti Tayebur Rahman نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وی ایس یادو کے دفتر کے ساتھ وزیراعلیٰ کو اپنے میمورنڈم میں کہا کہ لوگوں کا ایک طبقہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    • Share this:
      بنگلہ دیش میں درگا پوجا پنڈالوں Durga Puja pandals in Bangladesh کی توڑ پھوڑ کے خلاف تریپورہ میں ہندو تنظیموں کی طرف سے سلسلہ وار ریلیاں جاری ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کے دائیں بازو کے عناصر نے 6 مساجد،مسلم اقلیتی طبقہ کے تقریباً ایک درجن سے زائد مکانات اور دوکانوں کو تباہ کردیا۔ اسی ضمن میں تریپورہ ریاستی جمعیت علماء (ہند) نے وزیراعلی بپلب کمار دیب Biplab Kumar Deb کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی، جس میں پچھلے تین دنوں سے مساجد اور اقلیتی رہائش گاہوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

      تریپورہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ اگرچہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی وجہ سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہے، لیکن لا اینڈ کا کوئی بڑا معاملہ پیش نہیں آیا۔ ہم تقریباً 150 مساجد کو سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں۔ مذکورہ افسر نے اگرتلہ کے قریب ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

      • تحقیقات جاری ہیں:


      اناکوٹی کے ایس پی رتی رنجن دیبناتھ SP Rati Ranjan Debnath نے کہا کہ وہ شمالی تریپورہ کے ضلع میں مورتی سے متعلق ایک واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ مورتی اناکوٹی میں ایک پہاڑی کے اوپر ایک لاوارث جگہ پر واقع ہے۔ دیب ناتھ نے کہا کہ ’’پچھلے کچھ دنوں میں موسلا دھار بارش ہوئی تھی۔ اسی لیے کوئی بھی 45 منٹ سے زیادہ گھنے پودوں کے نیچے کیسے پیدل چل سکتا ہے۔ یہ ایک غیر استعمال شدہ جگہ میں۔ یہاں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہوئی ہے‘‘۔

      فائل فوٹو۔(شٹراسٹاک)۔
      تریپورہ پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ اگرچہ بھٹکے ہوئے لوگوں کی وجہ سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہے


      تریپورہ جمعیت کے صدر مفتی طیب الرحمن Mufti Tayebur Rahman نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وی ایس یادو کے دفتر کے ساتھ وزیراعلیٰ کو اپنے میمورنڈم میں کہا کہ لوگوں کا ایک طبقہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جمعہ کی شام نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مفتی طیب الرحمن نے کہا کہ ’’تریپورہ کے ہندو یا مسلم کمیونٹی میں سے کسی نے بھی (بنگلہ دیش میں) گھناؤنے واقعات کی حمایت نہیں کی۔ ہم نے بنگلہ دیش کے ویزا آفس میں اس کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے‘‘۔

      پولیس کے ساتھ جھڑپ کا واقعہ:

      بی جے پی کے ترجمان نبینڈو بھٹاچاریہ نے کہا کہ پارٹی ایسے کسی بھی واقعہ کے خلاف ہے اور اس کے اقلیتی مورچہ کے رہنماؤں نے امن کو یقینی بنانے کے لیے ریاست بھر میں ہر ایک سے رابطہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ 21 اکتوبر 2021 کو دفعہ 144 کی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے تشدد کے خلاف گومتی ضلع کے ادے پور میں ایک ریلی کے دوران وی ایچ پی اور ہندو جاگرن منچ VHP and Hindu Jagran Manch کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 15 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

      منتظمین نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ریلی کی اجازت تھی، لیکن پولیس نے انہیں اس وقت روک دیا جب انہوں نے کچھ اقلیتی اکثریت والے علاقوں کے قریب جانے کی کوشش کی اور وہاں تشدد بھرپا کردیا۔ مقامی آر ایس ایس لیڈر ابھیجیت چکرورتی اس ریلی کا حصہ تھے، انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں شبہ ہے کہ کچھ لوگوں نے انتظامیہ کو الجھانے کی کوشش کی ہوگی کہ ہم امن و امان میں خلل ڈالیں گے‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: