ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خدمت خلق اور حسنِ اخلاق سے ہی نفرت کا خاتمہ اور محبت کو عام کیا جاسکتا ہے : مولانا محمد رحمانی

مولانا محمد رحمانی مدنی نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلاف کی سیرتوں کا مطالعہ کرنے اور وطن کی آزادی میں ان کی حکمت عملی کواختیار کرنے اور صحابہ وتابعین اور محدثین کے منہج کے مطابق چلنے کی تلقین کی ۔

  • Share this:
خدمت خلق اور حسنِ اخلاق سے ہی نفرت کا خاتمہ اور محبت کو عام کیا جاسکتا ہے : مولانا محمد رحمانی
خدمت خلق اور حسنِ اخلاق سے ہی نفرت کا خاتمہ اور محبت کو عام کیا جاسکتا ہے : مولانا محمد رحمانی

ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ،نئی دہلی کے اعلیٰ تعلیمی وتربیتی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل ،نئی دہلی میں نادی الطلبہ کی جانب سے ہونے والے پانچ روزہ قرأتِ قرآن ، عربی،اردو،انگریزی اورہندی زبانوں میں تقریری وتحریری مقابلوں،مباحثہ علمیہ، مشاعر ہ اورکوئز پر مشتمل سالانہ اجلاس کاآج بحسن وخوبی اختتام ہوا۔ان تمام پروگراموں میںمرحلۂ ثانویہ وعالیہ کے 202  ،مرحلۂ متوسطہ کے 241 اورمعہد عثمان بن عفان جوگابائی کے 130 طلبہ نے مختلف مقابلوں میں پورے جوش وخروش کے ساتھ حصہ لیا ،جس میں دہلی کی جامعات ،یونیورسٹیوں کے اساتذہ ،پروفیسران اورائمہ وخطباء مساجد نے مختلف نشستوں میں جج کے فرائض انجام دیئے،جن میںجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی،جواہر لال نہرویونیورسٹی،دہلی یونیورسٹی،جامعہ ریاض العلوم،دہلی قابل ذکر ہیں۔

اس موقع پر اجلاس کے مہمان خصوصی سعودی سفارتخانہ دہلی کے ملحق شیخ بدر بن ناصر العنزی نے نادی الطلبہ کے نشاطات پر خوشی کا اظہار کیا اور صدر مرکز کا خصوصی شکر یہ ادا کیا اورکہاکہ علم کا حصول شرف کی چیز ہے اوریہ انبیاء کی وراثت ہے ،انبیاء مال کے وارث نہیں ہوتے تھے بلکہ علم کے وارث ہوتے تھے ۔ شیخ نے دعا کی اہمیت اور دعا کی قبولیت کے لیے اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے ادارہ کے بانی مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی کوششوں کو سراہا اوراساتذۂ جامعہ، طلبہ اورتما م ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا ۔

پروگرام سےخطاب کرتے ہوئے سراج الدین قریشی نے اپنی تاثراتی گفتگومیں طلبہ کی کارکردگیوں کوسراہا، دفاع نفس کے کرتبوں کودیکھ کر ان کی آج کے وقت میں شدید ضرور ت پر آگاہ کیا ۔ طلبہ کی قابلیت کواجاگر کرنے پر ابھارا ، اورمواقع سے استفادہ کرتے ہوئے وسائل وذرائع کوحاصل کرنے کی تلقین کی، طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ مزید محنت کریں، اور رحمانی صاحب کے کارناموں کی تعریف کی ، طلبہ کو اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے وقت کی قدرو قیمت کوجاننے پر ابھارا ،اور مقابلوں میںجیتنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے دوسرے تمام طلبہ کومحنت کرنے کی وصیت کی۔


جامعہ اسلامیہ سنابل میں منعقدہ پروگرام کا ایک منظر ۔
جامعہ اسلامیہ سنابل میں منعقدہ پروگرام کا ایک منظر ۔


اس کے بعد مرکز کے سکریٹری جناب مولانا عاشق علی اثری نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے قرآن کی آیت لیس للإنسان إلا ماسعی کی تلاوت کی،طلبہ کومبارکباد اوردعائیںدیتے ہوئے ہمت سے کام لینے اور جہد مسلسل وعمل پیہم کی ترغیب دی اور کامیاب طلبہ کو کبر وغرور سے ڈرایا ۔ آیت کریمہ کی روشنی میں دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت پرابھارااورآگے کے وقت میں تعلیم کے حصول میںمحنت اورامتحان کی تیاری میں مشغول ہوجانے کی وصیت کی۔ اس کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی صاحب نے اپنی مادر علمی میںحاضری پر دلی سکون واطمینان اور ادارہ سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی کہ جامعہ اسلامیہ سنابل ہندوستان ہی نہیں بلکہ بر صغیر اور عالم اسلام کی سطح پر اعلیٰ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔
بعد ازاں مصنف وعالم دین مولانا صلاح الدین مقبول احمدمدنی نے موجودہ حالات میں مایوس نہ ہونے اور قرآن سے ہدایت لیتے ہوئے حالات کا سامنا کرنے کی ہدایت کی اور طلبہ کے پروگرام میںشرکت سے اپنی خوشی کااظہار کرتے ہوئے قرآن کی تلاوت بغور کرنے اور سنت نبوی اور منہج سلف وعقیدہ کومضبوطی سے تھامنے کی وصیت کی ۔ اس کے بعد مرکز کے صدر مولانا محمد رحمانی، مدنی نے صدارتی کلمات میں ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلاف کی سیرتوں کا مطالعہ کرنے اور وطن کی آزادی میں ان کی حکمت عملی کواختیار کرنے اور صحابہ وتابعین اور محدثین کے منہج کے مطابق چلنے کی تلقین کی ۔طلبہ کو اپنے علم کے مطابق زندگی جینے اور موجودہ حالات میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرنے ، بے سہاروں کا سہارا بننے اور کمزوروں کی ذمہ داریاں اُٹھانے اور اعلیٰ اخلاق کے کردار کواپنانے پر زور دیتے ہوئے ذمہ داران جمعیت ودیگر قائدین ملت کو امت اسلامیہ کومتحد کرنے ، اس کی صحیح رہنمائی پر توجہ دینے اورماضی میں علماء کی قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امت کو امیدوں کا چراغ دکھانے کی علماء کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی اورموجودہ حالات کے تناظر میں مستقبل کے لیے فکر مند ہونے کی بات کہتے ہوئے بعض شدت پسندوں اور نفرت کے جذبات پھیلانے والوں کی تردید کی اور حکومت سے عدل وانصاف کی راہ پرچلنے کی اپیل کی اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کا سامنا ، محبت اور حسنِ اخلاق سے کرنے کا پیغام دیا ۔
First published: Mar 01, 2020 10:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading