دشمنوں کی اب خیر نہیں، ہندوستانی بحریہ کو ملی’ سائلنٹ کلر‘ کھنڈیری، جانیں خاصیت

آئی این ایس کھنڈیری سمندر میں پورے 45 دن تک رہ کر 12 ہزار کلو میٹر جانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ کھنڈیری جدید ٹکنالوجی اور ہتھیاروں سے لیس ہے اور یہ سطح اور پانی کے اندر سے بھی مار کرتی ہے۔

Sep 28, 2019 12:13 PM IST | Updated on: Sep 28, 2019 01:11 PM IST
دشمنوں کی اب خیر نہیں، ہندوستانی بحریہ کو ملی’ سائلنٹ کلر‘ کھنڈیری، جانیں خاصیت

ہندوستانی بحریہ کو ملا’ سائلنٹ کلر‘ کھنڈیری

نئی دہلی۔ ہندوستانی بحریہ کی آبدوز آئی این ایس کھنڈیری کو بیڑے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کھنڈیری کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا۔ اس کی تعمیر میں پورے 10 سال کا وقت لگا۔ یہاں تک پہنچنے میں یہ کئی سلسلوں سے ہو کر گزرا ہے۔ جس میں انجینئروں کی دن رات کی محنت اور کئی فیز کی ٹیسٹنگ شامل ہے۔ یہ سمندر میں 350 میٹر کی گہرائی تک غوطہ لگانے میں اہل ہے۔ اس میں موجود پرماننٹلی میگریٹائزڈ پروپلسن موٹر کی وجہ سے یہ آبدوز سمندر میں ایک دم خاموش رہتی ہے اور دشمنوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چل پاتا ہے۔

اس لئے رکھا گیا کھنڈیری نام

کھنڈیری کا نام عظیم مراٹھا حکمراں چھترپتی شیواجی مہاراج کے کھنڈیری قلعہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس قلعہ کی خاصیت یہ تھی کہ یہ ایک ایسا قلعہ تھا جو چاروں طرف پانی سے گھرا ہوا تھا اس لئے یہ دشمن کے لئے ناقابل تسخیر تھا۔

Loading...

آئی این ایس کھنڈیری سمندر میں پورے 45 دن تک رہ کر 12 ہزار کلو میٹر جانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ کھنڈیری جدید ٹکنالوجی اور ہتھیاروں سے لیس ہے اور یہ سطح اور پانی کے اندر سے بھی مار کرتی ہے۔

آئی این ایس كھنڈیری آبدوز کو بحریہ کے حوالے کرنے کے بعد راج ناتھ سنگھ نے کہا’’پاکستان کو سمجھنا چاہئے کہ آج ہماری حکومت کے مضبوط عزائم سے آئی این ایس كھنڈیری کے بیڑے میں شامل ہونے کے بعد بحریہ کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ اب ہندوستان پاکستان کو پہلے سے بڑا جھٹکا دینے کے قابل ہے‘‘۔ آئی این ایس كھنڈیری ہندوستان کی دوسری اسكارپين-کلاس کی آبدوز ہے جسے پی -17 شیوالک زمرہ کے جنگی بیڑے کے ساتھ بحریہ میں شامل کیا گیا۔ آئی این ایس كھنڈیری کے بحریہ میں شامل ہونے سے بحریہ کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

Loading...