ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Succes Story: مدرسہ کا طالب علم عبدالسلام خان کیسے بنا ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس

11 ستمبر کو اترپردیش پبلک سروس کمیشن کے نتائج میں اترپردیش کے پسماندہ اضلاع میں شمارہونے والے بلرام پور کے عبدالسلام خان بھی کامیاب ہوئے اور 20 ویں رینک حاصل کرنے والے عبدالسلام خان کو ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدہ کے لئے منتخب کیا گیا۔

  • Share this:
Succes Story: مدرسہ کا طالب علم عبدالسلام خان کیسے بنا ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس
مدرسہ کا طالب علم عبدالسلام خان کیسے بنا ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس

نئی دہلی: 11 ستمبر کو اترپردیش پبلک سروس کمیشن کے نتائج میں اترپردیش کے پسماندہ اضلاع میں شمارہونے والے بلرام پور کے عبدالسلام خان بھی کامیاب ہوئے اور 20 ویں رینک حاصل کرنے والے عبدالسلام خان کو ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدہ کے لئے منتخب کیا گیا۔ تاہم عبدالسلام خان یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ 8 سال تک وہ محنت کرتے رہے، جس کے بعد ان کو کامیابی ملی۔ عبدالسلام خان سال 2013 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ اکیڈمی آگئے تھے۔ انھوں نے یوپی ایس سی میں اب تک پانچ مرتبہ قسمت آزمائی کی، تاہم 2014-2013 میں پریلمس کوالیفائی نہیں ہوا، لیکن 2015 اور 2016 اور پھر 2017 میں مسلسل تین سال تک یوپی ایس سی مینس کوالیفائی کیا، لیکن انٹرویو تک نہیں پہنچے۔ عبدالسلام خان اپنی اس کامیابی کے لئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے والدین، بڑے بھائی اور دوستوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔ ان کے حوصلے اور تعاون کی وجہ سے میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔


اترپردیش پبلک سروس میں تیسری بار میں ملی کامیابی


یوپی ایس سی میں کامیابی نہیں ملی تو اسٹیٹ سول سروس کے امتحان دینا شروع کیا۔ سال 2016 میں کامیابی نہیں ملی تاہم 2017 میں اترپردیش سول سروس  میں مینس کیلئے کوالیفائی کیا، لیکن صرف دیڑھ نمبر سے انٹرویو کیلئے کوالیفائی نہیں ہوسکا۔ عبدالسلام بتاتے ہیں کہ انھیں کامیابی کی امید اور احساس ہو چکا تھا اور 2018 کے نتائج میں تیسری بار میں کامیابی ملی۔ عبدالسلام خان بتاتے ہیں ان کا اختیاری مضمون ارد و تھا کیونکہ جو مضمون بی ٹیک میں ہے، وہ یوپی ایس سی میں نہیں ہے اس لئے اردو زبان کو مضمون کے طورپرلیا۔


عبدالسلام خان اپنی اس کامیابی کے لئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے والدین، بڑے بھائی اور دوستوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔ ان کے حوصلے اور تعاون کی وجہ سے میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ (عبدالسلام اپنی فیملی کے ساتھ)
عبدالسلام خان اپنی اس کامیابی کے لئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے والدین، بڑے بھائی اور دوستوں کا بہت اہم رول رہا ہے۔ ان کے حوصلے اور تعاون کی وجہ سے میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ (عبدالسلام اپنی فیملی کے ساتھ)


بہتر رینک اور عہدہ کیلئے دیں گے یوپی ایس سی اور یوپی پی ایس سی

عبدالسلام کہتے ہیں کہ وہ اپنے رینک اور کامیابی سے خوش ہیں۔ تاہم وہ کوشش کریں گے کہ مزید بہتر رینک حاصل ہو۔ اس لئے 4 اکتوبر کو ہونے والے یوپی ایس سی میں شامل ہوں گے اور اسی طرح سے 2019 اترپردیس پبلک سول سروس میں شامل ہوں گے۔ عبدالسلام کہتے ہیں کہ ابھی جو عہدہ ملا ہے اس پر کام کرتے ہوئے آئی پی ایس تک پہونچنے میں 15 سال لگ جائیں گے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ امتحان اور بہتر رینک کے ذریعہ بہتر عہدہ حاصل کریں۔

اردو اختیاری مضمون سے ملتے ہیں کم نمبر

عبدالسلام خان بتاتے ہیں اردو ان کا اختیاری مضمون تھا۔ وہ مانتے ہیں کہ اردو میں اچھے نمبر آتے ہیں، لیکن بہترین نمبرات نہیں دیئے جاتے، جس طرح سے ہندی اور ملیالم، تیلگو، تمل کے لٹریچر میں تین سو سے ساڑھے تین سو تک نمبرات دیئے گئے لیکن اردو میں اب تک سب سے زیادہ 296 نمبرات ہی دیئے گئے ہیں۔ عبدالسلام مانتے ہیں کہ اردو میں اوریج مارکنگ کر دی جاتی ہے، لیکن بہترین نمبرات نہیں دیئے جاتے جبکہ انتھروپولوجی جیسے مضامین میں زیادہ نمبرات ملتے ہیں۔

عبدالسلام کہتے ہیں کہ وہ اپنے رینک اور کامیابی سے خوش ہیں۔ تاہم وہ کوشش کریں گے کہ مزید بہتر رینک حاصل ہو۔ (تصویر میں عبدالسلام خان اپنے والدین کے ساتھ۔ فائل فوٹو)
عبدالسلام کہتے ہیں کہ وہ اپنے رینک اور کامیابی سے خوش ہیں۔ تاہم وہ کوشش کریں گے کہ مزید بہتر رینک حاصل ہو۔ (تصویر میں عبدالسلام خان اپنے والدین کے ساتھ۔ فائل فوٹو)


مدرسہ کے طالب علم رہے ہیں عبدالسلام خان

متوسط طبقہ کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالسلام خان ایک وقت میں مدرسہ کے طالب علم ہوا کرتے تھے۔ عبدالسلام کا تعلق اترپردیش کے ضلع بلرام پور کے تلسی پور سے ہے۔ ابتدائی تعلیم مدرسے سے حاصل کرنے کےلئے عبدالسلام دہلی آگئے تھے۔ عبدالسلام بتاتے ہیں کہ وہ مدرسہ میں آٹھویں کلاس میں تھے، تبھی ان کی زندگی کا رخ بدل گیا جب وہ اپنے بڑے  بھائی عبداللہ خان کے پاس گئے، جو اس وقت جامعہ ہمدرد سے بی یو ایم ایس کر رہے تھے۔ عبداللہ کے قریبی دوست نے مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نویں کلاس کے لئے فارم بھرنے کا مشورہ دیا۔ ایک دو ماہ تیاری کرنے کے بعد جامعہ میں  میرا داخلہ ہوگیا۔ بچپن ہی میں اسکول یونیفارم اور اسکول بیگ اچھا لگتا تھا تو اسکول سے لگاﺅ تھا، وہ کام آیا اور جامعہ سے بارہویں کیا۔ بی ٹیک میں داخلہ کی کوشش کی تاہم ویٹنگ آگئی اور داخلہ نہیں ہوسکا۔ عبدالسلام بتاتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے کافی شرمیلے ہیں ان سے انٹرویو میں تین سوال پوچھے گئے، لیکن وہ جواب آنے کے باوجود نہیں بتاسکے۔ پھر لولی پروفیشنل یونیورسٹی (پنجاب) سے بی ٹیک الیکٹرانکس اینڈ کمیونی کیشن میں کیا۔

بی ٹیک کے بعد ملا 12000 کی نوکری کا آفر

بی ٹیک کرنے کے بعد کیمپس پلیمنٹ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے بلرام پور واپس آگئے۔ تاہم نوکری تلاش کرنے کی کوشش کی تو بارہ ہزار روپئے کی نوکری کا آفر ملا۔ عبدالسلام بتاتے ہیں کہ ان کو بڑا دھکا لگا کہ پرائیونٹ یونیورسٹی سے بی ٹیک کرنے کے بعد اتنی معمولی نوکری ان کو قبول نہ تھی۔ اس کے علاوہ موبائل ٹاور فریکوینسی کا کام پسند نہیں تھا، جس کی وجہ سے ایک دو سال ایسے ہی نکل گئے، تبھی ایک دوست جاوید نے یوپی ایس سی کی تیاری کیلئے کہا۔ تاہم سلیبس دیکھنے کے بعد ہمت نہیں ہوتی تھی۔ تاہم سال 2012 میں تیاری شروع کی اوراب کامیابی ملی ہے۔

 متوسط طبقہ کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالسلام خان ایک وقت میں مدرسہ کے طالب علم ہوا کرتے تھے۔ عبدالسلام کا تعلق اترپردیش کے ضلع بلرام پور کے تلسی پور سے ہے۔ فائل فوٹو

متوسط طبقہ کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالسلام خان ایک وقت میں مدرسہ کے طالب علم ہوا کرتے تھے۔ عبدالسلام کا تعلق اترپردیش کے ضلع بلرام پور کے تلسی پور سے ہے۔ فائل فوٹو


والدین نے کیا خوشی کا اظہار

عبدالسلام خان کے والد عبدالروف خان اور والدہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے بیٹے نے ہم سب کا، ہمارے خاندان کا اور ہمارے ضلع بلرام پور کا نام روشن کیا ہے۔ عبدالروف خان کہتے ہیں کہ میں نے شروع سے ہی اپنے ساتوں بیٹوں کے لئے تعلیم کا ماحول فراہم کیا کیونکہ میری خواہش تھی کہ میرے بچے تعلیم یافتہ ہوں۔ کئی موقع پر زیادہ فیس کی ادائیگی میں ہمیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن میں نے اپنی زمین تک بیچ دی، لیکن بچوں کو تعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے بیٹے عبدالسلام کو مستقل حوصلہ دیتا رہا کہ اگر تم ہمت نہیں ہاروگے تو بیٹا ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ملے گی۔ میں اپنے بیٹے کے صبر، محنت، لگن اور حوصلہ سے بہت خوش ہوں، میں اپنے بیٹے کے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ایمانداری کا جذبہ ہمیشہ برقرار رہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 14, 2020 11:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading