ہوم » نیوز » وطن نامہ

ایودھیا متنازعہ اراضی فیصلہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گا سنی وقف بورڈ: ظفر احمد فاروقی

رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ کے اہم فریقوں میں سے ایک یوپی کے سنی سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ بورڈ نے سنیچر9 نومبر کو کہا کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گا۔

  • Share this:
ایودھیا متنازعہ اراضی فیصلہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گا سنی وقف بورڈ: ظفر احمد فاروقی
رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ کے اہم فریقوں میں سے ایک یوپی کے سنی سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ بورڈ نے سنیچر9 نومبر کو کہا کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گا۔

رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ کے اہم فریقوں میں سے ایک یوپی کے سنی سینٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ بورڈ نے سنیچر9 نومبر کو کہا کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گا۔  بورڈ کے صدر ظفر احمد فاروقی نے 'بھاشا'سے بات چیت میں کہا کہ وہ عدالت کےفیصلے کا خیرمقدم کرتے  ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ  بورڈ کا اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ظفر احمد فاروقی نے کہ اگر کوئی وکیل یا دیگر بورڈ کی جانب سے عدالت کے فیصلے کو چیلنج دینے کی بات کہہ رہا  تو اسے صحیح نہیں مانا جائے۔  قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا میں کہا تھا کہ ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دیا جائے گا۔ حالانکی ظفریاب جیلانی نے بعد میں واضح کیا کہ وہ ۤل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کانفرنس تھی اور انہوں نے یہ بات بورڈ کے سکریٹری ہونے کی حیثیت سے کہی تھی نہ کہ وقف بورڈ کے وکیل ہونے کی حیثیت سے۔

بتادیں کہ برسوں قدیم رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ آج اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے متنازع زمین کو رام للا وراجمان کو دیا ہے جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ، جج ایس اے بوبڈے ، جج ڈی وائی چندر چوڑ ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

واضح رہے ک پانچ رکنی آئینی بنچ نے ایودھیا تنازعہ پرمسلسل 40 دن تک  کی سماعت کے بعد 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

یہ بھی بتادیں کہ عدالت نے شیعہ وقف بورڈ کی مالکانہ حق اور نرموہی اکھاڑے کی عرضی کو خارج کردیا اور واضح کیا کہ مسجد خالی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی تھی اور اس کے نیچے مندر کے باقیات موجود تھے۔ بنچ نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ مندر کو توڑ کر ہی مسجد بنائی گئی تھی۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس معاملے میں صرف آستھا کی بنیاد پر مالکانہ حق کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ ہندو مانتے رہے ہیں کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ایودھیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نرموہی اکھاڑے کو مرکزی حکومت کی طرف سے مندر کی تعمیر کے لئے بنائے جانے والے نیاس میں نمائندگی دی جائے گی۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ 2.77 ایکڑ کی پوری متنازعہ اراضی رام مندر کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔
گذشتہ پانچ سو برسوں سے چلے آرہے اس تنازعہ میں 206 سال کے بعد فیصلہ آیا ہے ۔ متنازعہ مقام پر ہندو اور مسلم فریقوں میں مالکانہ حق کا تنازع 1813 میں شروع ہوا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنٔو بنچ نے 30 ستمبر 2010 کو اجودھیا میں متازعہ زمین کو رام للا وراجمان ، نرموہی اکھاڑا اور سنی وقف بورڈ میں برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف عدالت عظمی میں اجازت کی 14 خصوصی عرضیاں دائر کی گئیں۔ عدالت عظمی نے اس معاملے کی سماعت ثالثی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد شروع کی تھی۔ اس سے پہلے عدالت نے ثالثی کے لئے جسٹس (سبکدوش) محمد ابراہیم کلیم اللہ کی قیادت میں تین رکنی ثالثی پینل تشکیل دیا تھا۔
First published: Nov 09, 2019 09:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading