بابری انہدام کیس : سپریم کورٹ کے جج نے سماعت سے خود کو کیا الگ

نئی دہلی : سپریم کورٹ کے ایک جج نے بابری مسجد انہدام کیس میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے دیگر رہنماؤں پر سے مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات کو ہٹائے جانےکے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے آج خود کو الگ کر لیا ۔

Mar 10, 2016 05:20 PM IST | Updated on: Mar 10, 2016 05:20 PM IST
بابری انہدام کیس : سپریم کورٹ کے جج نے سماعت سے خود کو کیا الگ

نئی دہلی : سپریم کورٹ کے ایک جج نے بابری مسجد انہدام کیس میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے دیگر رہنماؤں پر سے مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات کو ہٹائے جانےکے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے آج خود کو الگ کر لیا ۔

بینچ کی قیادت کر رہے جسٹس وی گوپال گوڑا نے کوئی وجہ بتائے بغیر سماعت سے خود کو الگ کر لیا اور کہا کہ کسی دوسرے بینچ کو بھیجے جانے کے لئے کیس چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے۔ حاجی محبوب احمد اور سی بی آئی نے چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے سلسلے میں سینئر بی جے پی لیڈر اڈوانی، جوشی اور 16 دیگر پر سے سازش رچنے کے الزام ہٹائے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھی۔

عرضیوں میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 کے حکم کو مسترد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) ہٹا دیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت عظمی سے کہا تھا کہ اس کی پالیسی کے تعین کا عمل آزادانہ طریقہ سے ہوتا ہے اور سینئر بی جے پی لیڈروں پر سے مجرمانہ سازش کے الزام کو ہٹانے کی کارروائی اس کے کہنے پر نہیں ہوئی۔

سی بی آئی نے ایک حلف نامہ میں کہا تھا کہ سی بی آئی کی پالیسی کے تعین عمل کا مکمل طور آزاد ہے۔ تمام فیصلے موجودہ قانون کی روشنی میں صحیح حقائق کی بنیاد پر لئے جاتے ہیں۔ کسی شخص، ادارے یا تنظیم سے سی بی آئی کی پالیسی کے تعین کا عمل کے متاثر ہونے یا عدالتوں میں کیس لڑنے کے اس کے طریقہ سے متاثر ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے۔

Loading...

Loading...