ہوم » نیوز » وطن نامہ

ناجائز تعلقات سے متعلق قانون معاملہ میں سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے ناجائز تعلقات سے متعلق قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر آج فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 09, 2018 10:06 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ناجائز تعلقات سے متعلق قانون معاملہ میں سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ آف انڈیا ۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے ناجائز تعلقات سے متعلق قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر آج فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے چھ دنوں تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔آئینی بنچ نے گزشتہ یکم اگست سے سماعت شروع کی تھی اور اس دوران اس نے مختلف متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سنیں ۔آئینی بنچ میں جسٹس روہنگٹن ایف نریمن ،جسٹس اے ایم کھانولکر ،جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں ۔مرکزی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل پنکی آنند کی جرح پوری ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔


عدالت عظمی نے سماعت کےدوران مرکز سے جاننا چاہا کہ ناجائز تعلقات سے متعلق قانون سے عوام کا کیا فائدہ ہے، کیونکہ اس میں التزام ہے کہ اگر عورت کے شادی کے بعد تعلقات قائم کرنے میں اس کے شوہر کی مرضی شامل ہے تو یہ جرم نہیں ہوگا۔ آئینی بنچ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 497کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران مرکز سے یہ سوال کیا۔


آنند نے آئینی بنچ سے کہا کہ ناجائز تعلقات جرم ہے ،کیونکہ اس سے شادی اور خاندان برباد ہوتے ہیں ۔ ایک ادارے کی شکل میں شادی کے تقدس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی ناجائز تعلق و جرم کے زمرے میں رکھاگیا ہے ۔مرکزی حکومت نے ناجائز تعلقات کو جرم کے زمرے میں رکھنے کی دلیل دی ۔

First published: Aug 09, 2018 08:52 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading