ہوم » نیوز » وطن نامہ

عورتوں کومسجد میں جانے کی اجازت کیوں نہیں، عدالت عظمیٰ نےمرکزی حکومت سے طلب کیا جواب

ادیب اورسماجی مبصرضیاء السلام نے اپنی نئی کتاب”وویمن ان مسجد: اے کوئسٹ فار جسٹس“ میں کہا ہےکہ پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو مسجد جانے سے روکنےکا کبھی حکم نہیں دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 04, 2019 06:22 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu

نئی دہلی: ایسے وقت میں جب کہ سپریم کورٹ نےملک کی تمام مساجد میں مسلم خواتین کو جانے کی اجازت کے متعلق دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے، مصنف اورصحافی ضیاء السلام کا کہنا ہے کہ اسلام عورتوں سے امتیاز ی سلوک کی اجازت نہیں دیتا اورقرآن نے59 مقامات پرمرد اورخواتین دونوں کوخطاب کرکے کہا ہے کہ وہ نماز قائم کریں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اورجسٹس ایس اے بوبڈے اورجسٹس ایس عبدالنظیر پرمشتمل بنچ نےگذشتہ جمعہ کو وزارت قانون اوراقلیتی امورکی وزارت کو نوٹس جاری کرکے تمام مساجد میں عورتوں کے داخلے کے متعلق دائر کردہ عرضی پراپنا موقف واضح کرنےکےلئےکہا ہے۔

ادیب اورسماجی مبصرضیاء السلام نے اپنی نئی کتاب”وویمن ان مسجد: اے کوئسٹ فار جسٹس“ میں کہا ہےکہ پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو مسجد جانے سے روکنےکا کبھی حکم نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن تنہائی میں بھی عبادت کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن بہترعبادت وہی ہے، جواجتماعی طورپرادا کی جائے۔ ضیاء السلام نے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئےلکھا ہےکہ عورتوں کو بس لازمی طور پرمساجد جانے سے مستشنی رکھا گیا ہے، انہیں مسد جانے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ پیغمبر اسلام نے خود بھی عورتوں کونمازجمعہ اورعیدین کی نمازاجتماعی طورپرادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

کتاب میں کہا گیا ہےکہ عہد وسطی میں مسلم خواتین کی صورت حال کہیں زیادہ بہترتھی۔ سیاسی لحا ظ سے ہر معاملہ میں بادشاہ ان سے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ اس سلسلے میں مغل بادشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کے واقعات تاریخ میں نمایاں طور پر موجود ہیں۔اگر سلطنت اور مغل دور کی تعمیرات کا باریکی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ خواتین مساجد میں نماز ادا کرنے کے لئے جاتی تھیں۔

ضیاالسلام کا کہنا ہے”صرف مساجد ہی نہیں بلکہ عورتیں خانقاہوں اور درگاہوں پر بھی جاتی تھیں اورکہا جاتا ہےکہ انہوں نے صوفیانہ کلام میں بہت اعلی مقام حاصل کیا، لیکن مغل حکومت کے زوال اور برطانوی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی تبدیلیاں آنی شروع ہوگئیں۔ قدامت پسندی بڑھنےکےساتھ ساتھ خواتین کو مساجد اورقبرستانوں سے دوررکھنےکا سلسلہ شروع ہوگیا“۔ مصنف کا کہنا ہے کہ عورتوں کو حج پر جانے کے حق سے نہ پہلے کبھی محروم کیا گیا تھا اور نہ آج وہ اس سے محروم ہیں۔ جب وہ حج پر جاتی ہیں تو اپنے محرم کے ساتھ مکہ اور مدینہ دونوں جگہ پر قبروں کی زیارت کے لئے بھی جاتی ہیں لیکن وطن واپس لوٹتے ہی انہیں ایک مختلف قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسے مقامی کلچر کا اثر کہیں یا اسلام کی ہندستانی شکل کہ خواتین مساجد کی تعمیر میں حصہ تو لے سکتی ہیں لیکن وہ ان میں پنچ وقتہ نماز ادا نہیں کرسکتی ہیں۔ آج خواتین ان مسجدوں میں بھی نماز ادا نہیں کرسکتی ہیں جنہیں سینکڑوں برس قبل کسی خاتون نے تعمیر کرائی تھی۔ اس کی سب سے واضح مثال پرانی دہلی میں واقع مشہور فتح پوری مسجد ہے۔ جہاں خواتین نماز ادا نہیں کرتیں۔ بھوپال کی تاج المساجد بھی اسی تفریق کی ایک او رمثال ہے۔عورتوں کو مسجد کمیٹیوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ کسی مسجد کمیٹی میں شاذ و نادر ہی کوئی خاتون رکن ہو۔مرد ہی مرد اور خواتین دونوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ کتاب کے مصنف نے مشور ہ دیا ہے کہ خواتین کے لئے مساجد میں عبادت کی جگہ ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں پیغمبر اسلام کی ہدایت کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ خواتین مردوں کے بعد آخری صف میں کھڑی ہوں جہاں سے وہ امام کو دیکھ سکیں۔ انہیں ایسے کسی کونے میں جگہ نہ دی جائے جہاں سے نہ تو وہ امام کو دیکھ سکیں اور نہ ہی قرات واضح طور پر سن سکیں۔کتا ب میں یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین کو ان کا یہ جائز حق دیا جائے۔
First published: Nov 04, 2019 06:22 PM IST