اجودھیا میں 50-60 مسجد، مسلمان کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں: ہندو فریق

سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع کی آج 39 ویں دن کی سماعت کے دوران ہندو فریق نے کہا کہ اجودھیا میں 50 سے 60 مسجد ہیں اور مسلم کہیں اور بھی جا کر نماز پڑھ سکتے ہیں ۔

Oct 15, 2019 06:18 PM IST | Updated on: Oct 15, 2019 06:26 PM IST
اجودھیا میں 50-60 مسجد، مسلمان کہیں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں: ہندو فریق

سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازع کی آج 39 ویں دن کی سماعت کے دوران ہندو فریق نے کہا  کہ اجودھیا میں 50 سے 60 مسجد ہیں اور مسلم کہیں اور بھی جا کر نماز پڑھ سکتے ہیں ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النظیر کی آئینی بینچ کے سامنے ہندو فریق کے وکیل کے پراسرن نے دلیل دی کہ اجودھیا میں 50-60 مسجد ہیں اور نماز کہیں بھی ادا کی جا سکتی ہے، لیکن یہ رام کی جائے پیدائش ہےاسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پراسر ن نے اپنی دلیل میں کہا کہ کسی کو بھی ہندوستان کی تاریخ کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ عدالت کو تاریخ کی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ ایک غیر ملکی ہندوستان میں آکر اپنے قانون نافذ نہیں کر سکتا ہے۔

انہوں نے اپنی دلیل کاآغاز ہندوستان کی تاریخ کے ساتھ کیا۔ کورٹ کی ہدایت کے بعد وکیل وی پی شرما نے تحریری دلیل کے ساتھ قرآن کے انگریزی ترجمے کی کاپی رجسٹری کو سونپی۔ اس کے ساتھ ہی ہندو اور سکھ مذہب کی بھی گرنتھ رجسٹری کو سونپے جائیں گے۔

ہندو فریق کی جانب سے وکیل نے مندر کے ثبوت کے طور پر کچھ دستاویز آئینی بینچ کو دینے کی گزارش کی ہے۔ عدالت کی جانب سے دستاویز رجسٹری کو دینے کو کہا گیا ہے۔ ہندو فریق مہنت رام چندر داس کے شاگرد سریش داس کی جانب سے وکیل پراسرن اپنی دلیلیں دے رہے ہیں۔

Loading...

Loading...