உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کسی ملزم کی گرفتاری غلط نہیں

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ نے کہا کہ سیکشن 50 کے تحت بیان لینے اور ملزم کو بلانے کی طاقت کا اختیار بھی صحیح ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ملزم کو ای سی آئی آر دینا لازمی نہیں ہے اور گرفتاری کے دوران اسباب کا انکشاف کرنا ہی کافی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پرونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کے ذریعہ کی گئی گرفتاری، ضبطی اور جانچ کے عمل کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہاس ایکٹ کے تحت کسی ملزم کی گرفتاری غلط نہیں ہے۔ یعنی ای ڈی جانچ عمل میں ضرورت پڑنے پر کسی کی گرفتاری غلط نہیں ہے۔ یعنی ای ڈی جانچ عمل میں ضرورت پڑنے پر کسی کی گرفتاری کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) گرفتاری کے وقت اس کی بنیاد کا انکشاف کرتا ہے تو یہ مناسب ہے۔

      سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ معاملے کی اطلاع رپورٹ (ای سی آئی آر) کو ایف آئی آر کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا ہے اور ای سی آئی آر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ایک داخلی دستاویز ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ملزم کو ای سی آئی آر دینا لازمی نہیں ہے اور گرفتاری کے دوران وجوہات کا انکشاف کرنا ہی کافی ہے۔

      کانگریس لیڈر کیرتی چدمبرم، این سی پی لیڈر انل دیشمکھ اور دیگر کی طرف سے آئی تقریباً 242 اپیل پر آج سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سبھی کی عرضیوں میں منی لانڈرنگ ایکٹ کے التزامات کو چیلنج دیا گیا تھا۔ جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش ماہیشوری اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

      اس معاملے میں کپل سبل، ابھیشیک منوسنگھوی اور مکل روہتگی سمیت کئی سینئر وکلا نے پی ایم ایل اے میں ترمیم کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق مختلف پہلووں پر سپریم کورٹ میں اپنا موقف رکھا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: