ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سپریم کورٹ میں سماعت : کشمیر میں لوگوں کے اختیارارت چھینے نہیں، بلکہ زیادہ ہوئے ہیں: مرکز

تشارمہتا نے کہا کہ جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد وہاں ویسے عوامی بنیادی 106 قانون مؤثر ہو گئے ہیں

  • Share this:
سپریم کورٹ میں سماعت : کشمیر میں لوگوں کے اختیارارت چھینے نہیں، بلکہ زیادہ ہوئے ہیں: مرکز
تشارمہتا نے کہا کہ جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد وہاں ویسے عوامی بنیادی 106 قانون مؤثر ہو گئے ہیں

مرکزی حکومت نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں آئین کی دفعہ 370 کے زیادہ تر التزامات غیر مؤثر کر کے وہاں کے لوگوں کے اختیارات چھینے نہیں گئے ہیں بلکہ ان سے زیادہ ملے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے جسٹس این وی رمن، جسٹس بی آر گوئي اور جسٹس سبھاش ریڈی کی بینچ کے سامنے درخواست گزاروں کے وکلاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 کے زیادہ تر دفعات غیر مؤثر کر کے جموں و کشمیر میں لوگوں سےاختیارات چھینے نہیں گئے ہیں، بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ حقوق ملے ہیں۔


کشمیرمیں پابندیوں کوختم کرنے کی درخواست والی عرضی پرآج سپریم کورٹ میں سماعت۔(تصویر:نیوز18 اردو )۔
کشمیرمیں پابندیوں کوختم کرنے کی درخواست والی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت۔(تصویر:نیوز18 اردو )۔


تشارمہتا نے کہا کہ جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد وہاں ویسے عوامی بنیادی 106 قانون مؤثر ہو گئے ہیں، جو وہاں خصوصی ریاست کے درجہ کے تحت لاگو نہیں تھے۔ انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں ہسپتالوں اور عوامی مقامات کے تمام ویڈیو دکھایا جا سکتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں حالات معمول ہوئے ہیں‘‘۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک نہ صرف سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے، بلکہ اس دہشت گردی کو وادی کے کچھ مقامی علیحدگی پسند لوگوں کی طرف سے شہہ بھی ملتی رہی ہے۔


تشارمہتا نے دلیل دی کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام صوبہ بننے کے بعد مقامی لوگوں کو اس کے فوائد ملنے والے ہیں۔ عدالت کو نہ صرف کچھ لوگوں کی اظہار کی آزادی کی حفاظت کرنی ہے، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ ایک بڑی تعداد کے بنیادی حقوق بھی محفوظ رہے۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ درخواست گزارکشمیر کی ایسی تصویرکیوں پیش کررہے ہیں؟ سالیسٹر جنرل نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں اس سے پہلے تعلیم کا حق لاگو نہیں تھا، لیکن ایک بھی آدمی عدالت سے یہ مطالبہ نہیں آیا کہ ریاست کے بچوں کے لئے تعلیم کا حق لاگو کرایا جائے۔ کئی بارعدالت کے سامنے غلط معلومات پیش کرگمراہ کیا جاتا ہے۔

ایک کشمیری شہری اپنے مکان میں باہر کا نظارہ کرتے ہوئے۔(تصویر:رائٹرز)۔
ایک کشمیری شہری اپنے مکان میں باہر کا نظارہ کرتے ہوئے۔(تصویر:رائٹرز)۔


انہوں نے 1990 کے بعد جموں و کشمیرمیں پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح دفعہ 370 پر حتمی فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا،’’ریاست میں بہت کم پابندی اس وجہ سے عائد ہے تاکہ ریاست کے لوگوں کی زندگی اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنائی جائے۔ ابھی بھی انٹرنیٹ کے علاوہ سب کچھ نارمل ہے‘‘۔ تشارمہتا نے کہا، ’’یہ کہنا کہ ایک حکم کے ذریعے پوری ریاست میں پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا، غلط دلیل ہے۔ مقامی حکام کی معلومات اور خطرے کا خدشہ کے پیش نظر پابندی لگائی گئی ہے۔ جموں کشمیر کے سات پولیس تھانہ علاقوں میں پہلے دن سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی ۔ لداخ میں کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ ریاست کی بیشتر عوام امن چاہتے ہیں اور کچھ عناصرسے اس کے مفادات کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘

فائل فوٹو

تشارمہتا نے ایک ایک کر کے پابندی ہٹانے کا سلسلہ وار تفصیلات بھی بینچ کے سامنے رکھا۔انہوں نے کہا کہ چار ستمبر تک تمام بنیادی فون سروس وہاں بحال کر دی گئی تھی، 27 اگست سے اسکول کھلنے شروع ہوگئے اور 23 اکتوبر تک سارے اسکول کھل گئے تھے۔ تشارمہتا نے واضح کیا کہ ریاست میں مکمل طور پرانٹرنیٹ پرپابندی نہیں ہے،280 ای ٹرمینل بنائے گئے ہیں، جن کے ذریعے لوگ انٹرنیٹ سروس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سارے اخبار جموں و کشمیر سے شائع ہو رہے ہیں، سوائے کشمیر ٹائمز کے، جن کے ایڈیٹر نے خود ہی سری نگر سے اخبار نہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
First published: Nov 21, 2019 11:56 PM IST
  • India
  • World

India

  • Active Cases

    6,039

     
  • Total Confirmed

    6,761

     
  • Cured/Discharged

    515

     
  • Total DEATHS

    206

     
Data Source: Ministry of Health and Family Welfare, India
Hospitals & Testing centres

World

  • Active Cases

    1,205,144

     
  • Total Confirmed

    1,682,220

    +78,568
  • Cured/Discharged

    375,093

     
  • Total DEATHS

    101,983

    +6,291
Data Source: Johns Hopkins University, U.S. (www.jhu.edu)
Hospitals & Testing centres