ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاست کو حکم- 15 دن میں سبھی مائیگرینٹ مزدور گھر پہنچائے جائیں

مرکزی حکومت (Central Government) نے سپریم کورٹ (Supreme Court) سے کہا کہ ان کام کرنے والے مزدوروں (Migrants Workers) کو ان کے آبائی وطن پہنچانے کے لئے تین جون تک 4200 سے زیادہ شرمک ٹرینیں چلائی گئیں۔ ابھی تک تقریباً ایک کروڑ مزدوروں کو گھر پہنچایا گیا ہے۔

  • Share this:
سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاست کو حکم- 15 دن میں سبھی مائیگرینٹ مزدور گھر پہنچائے جائیں
سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاست کو حکم- 15 دن میں سبھی مائیگرینٹ مزدور گھر پہنچائے جائیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف صوبوں میں پھنسے مزدوروں کی بدحالی پر از خود نوٹس معاملے میں آئندہ منگل کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔ جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بینچ نے تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں 9 جون (منگل) کو اپنا حکم سنائے گا۔ سماعت کے دوران عدالت نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات تک پہنچانے کےلئے مرکز اور ریاستوں کو 15 دن کا وقت دینے کا اشارہ دیا۔


مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے آبائی وطن پہنچانے کے لئے تین جون تک 4200 سے زیادہ شرمک ٹرینیں چلائی گئیں۔ ابھی تک تقریباً ایک کروڑ مزدوروں کو گھر پہنچایا گیا ہے۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے آبائی وطن پہنچانے کے لئے تین جون تک 4200 سے زیادہ شرمک ٹرینیں چلائی گئیں۔ ابھی تک تقریباً ایک کروڑ مزدوروں کو گھر پہنچایا گیا ہے۔


معاملے کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوئی سماعت کے دوران بینچ نے اپنی یہ منشا ظاہر کی۔ اس کے علاوہ بینچ نے کہا کہ تمام ریاستوں کو تارکین وطن مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہئے۔ سماعت کا آغاز کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بینچ کو مطلع کیا کہ ان تاراکین وطن کارکنوں کو ان کے آبائی مقام تک پہنچانے کے لئے تین جون تک 4270 ’شر،مک اسپیشل ٹرین‘ چلائی گئی ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ ابھی تک ایک کروڑ سے زیادہ کارکنوں کو ان کے منزل مقصود تک پہنچایا گیا ہے اور سب سے زیادہ ٹرینیں اتر پردیش اور بہار گئی ہیں۔


سپریم کورٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف صوبوں میں پھنسے مزدوروں کی بدحالی پر از خود نوٹس معاملے میں آئندہ منگل کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔
سپریم کورٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف صوبوں میں پھنسے مزدوروں کی بدحالی پر از خود نوٹس معاملے میں آئندہ منگل کو اپنا فیصلہ سنائے گا۔


سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ریاستی حکومتیں بتا سکتی ہیں کہ ابھی اور کتنے تارک وطن کارکنان کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے؟ اور اس کے لئے کتنی ٹرینوں کی ضرورت ہو گی؟ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں نے جو معلومات فراہم کرائی ہے اس کی بنیاد پر چارٹ تیار کیا گیا ہے۔ اب 171 ٹرینوں کی اور ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے چارٹ کو دیکھتے ہوئے تشار مہتا سے سوال کیا کہ کیا مہاراشٹر حکومت نے ایک ہی ٹرین کا مطالبہ کیا ہے؟ اس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ریاستی حکومت کے مطابق اسے ایک ہی ٹرین فی الحال چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر سے دوسری ریاستوں کے لئے 802 ٹرینیں چلائی جا چکی ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ ریاستوں سے مطالبہ آنے پر 24 گھنٹے کے اندر حکومت ٹرین فراہم کر رہی ہے۔

اس دوران مختلف ریاستوں کے وکلاء نے بینچ کے سامنے حساب کتاب رکھا۔ مہاراشٹر حکومت نے بتایا کہ 11 لاکھ مزدوروں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، 38 ہزار کو بھیجا جانا باقی ہے۔ گجرات حکومت نے کہا کہ 22 لاکھ میں سے 20.5 لاکھ تارکین وطن محنت کشوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ دہلی حکومت نے کہا کہ دو لاکھ لوگ ایسے ہیں جو یہیں رہنا چاہتے ہیں۔صرف 10 ہزار اپنی ریاست واپس جانے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کہا کہ وہ لوگوں سے کرایہ نہیں لے رہی ہے۔ کل 104 ٹرین چلائی گئیں اور ایک لاکھ 35 ہزار افراد کو الگ الگ ذرائع سے واپس بھیجا گیا۔ وکیل نے کہا کہ 1664 شرمک ٹرین سے 21 لاکھ 69 ہزار لوگوں کو اتر پردیش واپس لایا گیا۔ دہلی سرحد سے بس کے ذریعہ ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں کو واپس لایا گیا۔
First published: Jun 05, 2020 07:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading