உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کی 177 اہم شخصیات کا CJI کو خط، لکھا : نوپور شرما معاملہ میں SC نے پار کی 'لکشمن ریکھا'

    ملک کی 177 اہم شخصیات کا CJI کو خط، لکھا : نوپور شرما معاملہ میں SC  نے پار کی 'لکشمن ریکھا'

    ملک کی 177 اہم شخصیات کا CJI کو خط، لکھا : نوپور شرما معاملہ میں SC نے پار کی 'لکشمن ریکھا'

    کیرالہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس رویندرن کے خط پر 15 ریٹائرڈ جج، 77 ریٹائرڈ نوکرشاہ ، 25 ریٹائرڈ فوجی افسران نے دستخط کرکے، ان کے اسٹیٹمنٹ کی حمایت کی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : نوپور شرما پر سپریم کورٹ کے ذریعہ کئے گئے تبصرہ کی سابق ججوں نے تنقید کی ہے اور ہندوستان کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اس کی شکایت کی ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس رویندرن کے خط پر 15 ریٹائرڈ جج، 77 ریٹائرڈ نوکرشاہ ، 25 ریٹائرڈ فوجی افسران نے دستخط کرکے، ان کے اسٹیٹمنٹ کی حمایت کی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ نوپور شرما نے اپنے خلاف ملک کی الگ الگ ریاستوں میں درج سبھی معاملات کو ایک ساتھ کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی ۔

      نوپور کی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردیوال کی بینچ نے زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیان ملک بھر میں آگ لگانے کیلئے ذمہ دار ہے ۔ اس تبصرہ کے بعد روزانہ الگ الگ تنظیمیں چیف جسٹس کو خط لکھ کر شکایت کررہی ہیں ۔ کیرالہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس پی ایم رویندرن نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس تبصرہ سے سپریم کورٹ نے لکشمن ریکھا پار کردی ہے ۔ ان کے اس خط پر عدلیہ ، نوکرشاہی اور فوج کے 117 سابق افسران اور ججوں کے دستخط ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: موسمی خرابی کے بعد کشمیر میں امرناتھ یاترا کو کیا گیا عارضی طور پر معطل


      سابق جج جسٹس پی این رویندرن کے خط میں لکھا ہے کہ ہم ذمہ دار شہری کے طور پر بھروسہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی جمہوریت تب تک برقرار نہیں رہے گی، جب تک سبھی ادارے آئین کے مطابق اپنے فرائض پر عمل نہیں کریں گے ۔ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے اپنے حال کے تبصرے میں لکشمن ریکھا پار کی ہے اور ہمیں یہ بیان جاری کرنے کیلئے مجبور کیا ہے ۔ دونوں ججوں کے تبصرے نے لوگوں کو حیران کردیا ہے ۔ یہ تبصرے جوڈیشیل آرڈر کا حصہ نہیں ہیں ۔ ایک فرد پر ملک کی کئی ریاستوں میں درج مقدمات کو ایک جگہ جمع کروانا اس کا قانونی حق ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: گھاٹ کوپر میں شدید بارش کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ، موقع پر پہنچیں فائر بریگیئڈ


      اس کے علاوہ جموں و کشمیر کی ایک تنظیم فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس نے بھی چیف جسٹس کو خط لکھ کر نوپور شرما پر سپریم کورٹ کے تبصرہ کی تنقید کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے یکم جولائی کو بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کچھ تبصرے کئے تھے ۔ حالانکہ آرڈر کی کاپی میں ان کا ذکر نہیں تھا ۔ بار اینڈ بینچ نے جسٹس سوریہ کانت کو کوٹ کیا کہ 'جس طرح سے نوپور شرما نے پورے ملک میں جذبات کو بھڑکایا ہے، ملک میں جو ہورہا ہے اس کیلئے یہ خاتون ذمہ دار ہے ، ہم نے مباحثہ دیکھا کہ انہیں کیسے اکسایا گیا ، انہیں پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے ۔'

      جسٹس سوریہ کانت نے نوپور شرما کو پھٹکا لگاتے ہوئے کئی دیگر تبصرے بھی کئے اور کہا کہ انہیں ٹیلی ویزن پر آکر پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: