ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں 4 جی نیٹ ورک سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج

جسٹس این وی رمن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوئی کی صدارت والی بنچ کل تین درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائےگی۔

  • UNI
  • Last Updated: May 11, 2020 08:18 AM IST
  • Share this:
کشمیر میں 4 جی نیٹ ورک سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج
کشمیر میں 4 جی نیٹ ورک سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج:- فائل فوٹو

نئی دہلی: سپریم کورٹ ملک بھرمیں لاک ڈاؤن کے پیش نظرجموں کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ بحالی سے متعلق مطالبہ کی درخواست پر آج پیرکو اپنا فیصلہ سنائےگا۔ جسٹس این وی رمن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوئی کی صدارت والی بنچ کل تین درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ درخواست گزاروں میں فاؤنڈیشن فار میڈیا پروفیشنلز، شعیب قریشی اور جموں و کشمیر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ بنچ کی جانب سے جسٹس رمن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ساڑھے 11 بجے فیصلہ سنائیں گے۔

قابل غور ہے کہ بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منسلک تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد گزشتہ 4 مئی کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش وکیل حذیقہ احمدی نے دلیل دی تھی کہ موجودہ 2 جی سروس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی، اور تاجروں کوکاروبار میں دقت آ رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، کورونا وائرس کے درمیان ریاست میں لوگ ويڈيو كال کے ذریعے ڈاکٹروں سے ضروری مشورہ ےتک نہیں لے پا رہے ہیں۔


حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی رفتار کو کنٹرول کرنا داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی رفتار کو کنٹرول کرنا داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔


انہوں نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ڈاکٹروں تک پہنچنےکا حق، جینے کے حق کے تحت آتا ہے۔ کوروناکے دور میں لوگوں کو ڈاکٹروں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مشورہ لینے سے روکنا آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت تفویض بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی رفتار کو کنٹرول کرنا داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ قومی سلامتی سب سے اوپر ہے اور یہ فیصلہ حکومت پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ملک کی سالمیت سے منسلک ایسے ایشوز پر عوامی طور پر یا کورٹ میں بحث نہیں کی جا سکتی۔ عدالت کو اس مسئلے میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ اس معاملہ میں درخواست گزار جموں کشمیر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید بھی پیش ہوئے تھے۔ تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس بارے میں بعد میں فیصلہ سنائے گی۔
First published: May 11, 2020 08:18 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading