உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gujarat Riots 2002:پی ایم مودی کی کلین چٹ پرSCکی مہر، ذکیہ جعفری کی عرضی خارج

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    Gujarat Riots 2002: اس معاملے پر فیصلہ آج جسٹس اے ایم کھانولکر، دنیش مہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے دیا۔ بنچ نے کہا کہ اپیل حکم دینے لائق نہیں ہے۔ اس ریمارکس کے ساتھ ہی عدالت نے ذکیہ کی اپیل خارج کر دی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Gujarat Riots 2002: سال 2002 کے گجرات فسادات کیس میں ذکیہ جعفری کی عرضی کو سپریم کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ ذکیہ نے ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کیا تھا جس میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو فسادات کی سازش کے الزام سے آزاد کیا تھا۔ اس سے قبل 2012 میں مجسٹریٹ اور 2017 میں ہائی کورٹ اس رپورٹ کو منظوری دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست میں کوئی حقائق نہیں ہیں۔

      سپریم کورٹ نے 2008 میں فسادات کی تحقیقات کے لیے سابق سی بی آئی ڈائریکٹر آر کے راگھون کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ عدالت اس تفتیش کی نگرانی کرتی رہی۔ فسادات میں مارے گئے کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے اس وقت کے سی ایم نریندر مودی پر فسادات کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ 2011 میں سپریم کورٹ نے ذکیہ کے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر ایس آئی ٹی کو معاملے کی جانچ کرنے کا حکم دیا تھا۔

      2012 میں ایس آئی ٹی نے داخل کی تھی کلوزر رپورٹ
      سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ایس آئی ٹی نے فسادات کے بڑے سازشی پہلو کی جانچ کی۔ وزیر اعلیٰ مودی کو بھی ان کے دفتر بلا کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ 2012 میں ایس آئی ٹی نے مجسٹریٹ کے پاس کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ ایس آئی ٹی نے مودی سمیت 63 لوگوں پر سازش کا حصہ بننے کا الزام غلط پایا۔ ذکیہ نے مجسٹریٹ کی عدالت میں اس رپورٹ کے خلاف احتجاجی درخواست دائر کی۔ جسے مجسٹریٹ نے مسترد کر دیا۔ سال 2017 میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی مجسٹریٹ کے حکم کو صحیح قرار دیا تھا۔

      SC بنچ نے کہا-اپیل حکم دینے لائق نہیں
      کیس کی سماعت کے دوران ذکیہ کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے بحث کی تھی۔ انہوں نے ایس آئی ٹی پر ثبوتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دوسری طرف مکل روہتگی نے ایس آئی ٹی کی طرف سے دلیل دی تھی۔ درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے روہتگی نے کہا کہ درخواست گزار اس کیس میں پی ایم مودی کے نام کے شامل ہونے کی وجہ سے اسے گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روہتگی نے عرضی گزار کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا، ’اگر وہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات پر بھی یقین نہیں رکھتے ہیں، تو کیا اب وہ اسکاٹ لینڈ یارڈ (برطانوی پولیس ہیڈ کوارٹر) کی تحقیقاتی ٹیم کو بلانے کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں؟‘

      یہ بھی پڑھیں:
      ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتونMPالہان عمر نے پیش کی ہند مخالف تجویز، پاس ہونے کی نہیں ہے امید

      یہ بھی پڑھیں:
      BRICS Declaration:بات چیت سے حل ہویوکرین تنازعہ،دہشتگردی کیلئے نہ ہوافغان سرزمین کااستعمال

      اس معاملے پر فیصلہ آج جسٹس اے ایم کھانولکر، دنیش مہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے دیا۔ بنچ نے کہا کہ اپیل حکم دینے لائق نہیں ہے۔ اس ریمارکس کے ساتھ ہی عدالت نے ذکیہ کی اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے مانا کہ مقدمے میں مجسٹریٹ کا حکم درست تھا۔ تمام پہلوؤں کو دیکھنے کے بعد، انہوں نے قانون کے مطابق عمل کے بعد حکم دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: