مرکزاورآسام حکومت کا دوبارہ تصدیق کا مطالبہ مسترد، مولانا ارشدمدنی نے جمعیۃعلماء ہند کی بڑی کامیابی قراردیا

سپریم کورٹ نے مرکزاورآسام حکومت کا دوبارہ تصدیق کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے مدت میں 31 اگست تک کی توسیع کردی ہے۔

Jul 23, 2019 09:12 PM IST | Updated on: Jul 23, 2019 09:12 PM IST
مرکزاورآسام حکومت کا دوبارہ تصدیق کا مطالبہ مسترد، مولانا ارشدمدنی نے جمعیۃعلماء ہند کی بڑی کامیابی قراردیا

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی: آسام شہریت معاملہ میں آج اس وقت ایک نیاموڑآگیا جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی اورجسٹس ایف اے نریمن کی دورکنی بینچ نےمرکزاورآسام حکومت کی طرف سے داخل کی گئی اس عرضی کومستردکردیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش سے متصل سرحدی اضلاع میں 20فیصد اورعام اضلاع میں 10فیصد ناموں کے ری ویریفکشن یعنی کےدوبارہ تصدیق کی اجازت دی جائے، عرضی میں دلیل دی گئی تھی کہ عام لوگوں میں یہ غلط فہمی یقین کی شکل اختیارکرگئی ہےکہ این آرسی میں بہت سےغیرملکی شہریوں نےاپنا نام درج کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہےاوربہت سے حقیقی شہریوں کا نام این آرسی میں اب تک شامل نہیں ہوسکا ہے، اس لئےاین آرسی میں شامل سرحدی اضلاع میں 20 اورعام اضلاع میں 10فیصد ناموں کے ری ویریفکشن یعنی دوبارہ تصدیق کی اشد ضرورت ہے۔

عرضی میں این آرسی کی حتمی فہرست کی تاریخ 31 جولائی میں اضافہ کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی، جسے عدالت نےتسلیم کرلیا اوراس کی مدت میں 31 اگست تک کی توسیع کردی۔ قابل ذکر ہے کہ 18جولائی کو جب یہ عرضی داخل کی گئی تھی تب جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کپل سبل اورسلمان خورشید نےاس کی شدید مخالفت کی تھی اورکہا تھا کہ جن لوگوں کے نام پہلے ہی این آرسی میں شامل ہوچکے ہیں آپ ان کےلئے ضرورت سے زیادہ فکرمندی کا اظہارکررہے ہیں اوران کے ناموں کی دوبارہ تصدیق بھی کرانا چاہتے ہیں، لیکن جن لوگوں کےنام اب تک این آرسی فہرست میں شامل نہیں ہوئے ہیں اور جواس کے لئے دردرکی خاک چھان رہے ہیں ان کے تعلق سے حکومت کی طرف سے ذرابھی فکرمندی اورحساسیت کا مظاہرہ نہیں ہورہا ہے۔

Loading...

وکلاء نے پیش کی یہ دلیل

آج جب اس عرضی پر باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا تو مرکز کی طرف سے کے کے وینوگوپال اورآسام حکومت کی طرف سے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نےایک بارپھریہ دلیل پیش کی کہ بہت سےایسے لوگ ہیں جن کانام این آرسی میں غلط طریقہ سے شامل ہوگیا ہےاوربہت سے ایسے حقیقی شہری ہیں جن کانام اب تک این آرسی میں شامل نہیں ہوسکا ہے، اس لئے دوبارہ تصدیق یعنی ری ویریفکشن بہت ضروری ہے، اس دلیل کے جواب میں جمعیۃعلماء ہند اورآمسو کے وکیل سلمان خورشید نےکہا کہ اگراس مطالبہ کو عدالت تسلیم کرلے تی ہے توایک بارپھر این آرسی کامعاملہ طول اخیتارکرجائےگا۔ گزشتہ  سماعت پرآسام حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالسٹرجنرل مسٹرتشارمہتانےعدالت سے یہ بھی کہاتھا کہ اگلی سماعت پر اسٹیٹ کوآرڈی نیٹرپرتیک ہزیلااس پر اپنی رپورٹ پیش کریں گے مگرآج جب مسٹرہزیلا نے تین سیل بند لفافوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی تو عدالت نے اسے قبول نہیں کیا بحث کوغورسے سننے کہ بعد عدالت نے جہاں این آرسی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا وہیں مرکز اورآسام کے دوبارہ تصدیق کے مطالبہ کو مستردکردیا۔

جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء کی بڑی کامیابی: 

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی: تصویر: نیوز 18 اردو۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی: تصویر: نیوز 18 اردو۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نےآج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ یہ جمعیۃعلماء ہند اورہمارے وکلاء کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں ابتداہی سے این آرسی کے عمل میں رخنہ اندازی کرکے اور نت نئےشوشہ اٹھاکرہندوستانی شہریوں اورخاص کر مسلمانوں میں ڈراورخوف پیداکرناچاہ رہی ہیں حالانکہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ آسام میں ایک بڑی تعدادغیرمسلموں کی ہے، جن کےنام اب تک این آرسی میں شامل نہیں ہوسکے ہیں اورجمعیۃعلماء ہند ان کےلئےبھی مشترکہ طورپرقانونی جدوجہد کررہی ہے۔

ملکی شہریوں کو غیرملکی قراردینا غیرقانونی

مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ ہماراموقف بالکل واضح ہےکہ جوغیرملکی ہیں ان کانام این آرسی میں نہیں آناچاہئے، لیکن جولوگ صدیوں سے یہاں آباد ہیں انہیں حیلوں بہانوں اور نت نئی رخنہ اندازی سے این آرسی کی فہرست سے باہرکردینا اورغیرملکی قراردے دینا سراسرغلط اورغیرقانونی ہے۔  ملک کا آئین بھی اس کی اجازت نہیں دیتامگرافسوس کہ جب سےآسام میں این آرسی کی تیاری کا عمل شروع ہوا ہے نئےنئےضابطوں اورطریقوں سےلوگوں کوڈراور خوف میں مبتلارکھنے کی نہ صرف کوشش ہورہی ہے بلکہ حقیقی شہریوں کو بھی غیر ملکی ثابت کرنے کی منظم سازش بھی ہورہی ہے تازہ عرضی بھی اسی کی ایک کڑی تھی جس میں سرحدی اضلاع  میں 20فیصداور باقی اضلاع میں 10فیصد ناموں کے دوبارہ تصدیق کا مطالبہ کیا گیا تھا ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے اصل مقصدتویہی تھا کہ جن لوگوں کانام این آر سی میں آچکا ہے دوبارہ تصدیق کی آڑمیں انہیں پھرپریشان کیا جائے۔ مگراللہ کا شکرہےکہ اس میں انہیں منہ کی کھانی پڑی جمعیۃعلماء ہند کی بروقت مداخلت سے انہیں ناکامی کاسامناکرناپڑاہے۔

انہوں نےآخرمیں کہاکہ اب یہ سلسلہ آسام تک ہی محدودنہیں رہے گابلکہ اب وہ این آرسی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ایسے میں عدالت کایہ فیصلہ ایک نظیربن کرہماری رہنمائی اورمعاونت کرے گا، اورکورٹ پر ہمارے اعتمادمیں اوربھی اضافہ ہوا ہے۔ قابل ذکرہےکہ جمعیۃ علما ء آسام روزاول سے آسام شہریت معاملے میں پیش پیش ہے وہ اس کےلئےنہ صرف قانونی جدوجہد کرتی رہی ہے بلکہ زمینی سطح پر بھی اس کے رضاکار متأثرین کی ہرطرح سے مددرکررہے ہیں، آج بھی کمرہ عدالت میں جمعیۃعلماء آسام اور آمسوکے ذمہ داران موجودتھے۔

Loading...