உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے والد کی جائیداد میں بیٹیوں کے حق کے دائرہ کو دی وسعت، جانیے کیسے

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    جسٹس کرشنا مراری نے اس فیصلے کے ساتھ اپنے تبصرے میں کہا، ’ہمارے تو قدیم کتابوں میں بھی خواتین کو برابر کا جانشین مانا گیا ہے۔ چاہے سمرتیاں ہوں، ٹیکائیں ہوں یا پھر دیگر مقدس کتابیں۔ ان میں تمام ایسے مضامین ہیں، جن میں بیوی، بیٹی جیسی خواتین جانشین کو تسلیم شدہ قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے لے کر دیگر عدالتوں کے فیصلوں میں بھی کئی مرتبہ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔‘

    • Share this:
      نئی دہلی:سپریم کورٹ (Superem Court) نے والد کی جائیداد میں بیٹوں کے مساوی بیٹیوں کے حقوق کا دائرہ بھی بڑادیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو دئیے ایک اہم فیصلے کے ذریعے یہ یقینی بنایا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ایس عبدالنظیر اور کرشنا مراری کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ ججوں نے کہا کہ زمین جائیداد سے جڑے جانشین کے 1956 سے پہلے کے کیسیز میں بھی بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر ہی حق ہوگا۔ اگر کسی زمین جائیداد کے مالک کی موت وصیت لکھنے سے پہلے (Intestate) ہوگئی ہے تو اس کی اس کی خود حاصل شدہ جائیداد وراثت کے اصول کے تحت اس کے بچوں کو جائے گی۔ چاہے وہ بیٹا ہو، بیٹی یا دونوں۔ ایسی جائیداد زندہ بچ جانے والے (Survivorship) کے رول کے مطابق مرنے والے کے بھائیوں یا دیگر سگے رشتہ داروں کو ٹرانسفر نہیں ہوگی۔ پھر چاہے وہ شخص اپنی زندگی میں جوائنٹ فیملی کا رکن ہی کیوں نہ رہا ہو۔

      سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے۔ اس کے تحت بنا وصیت لکھے ہی 1949 میں فوت ہوئے مرپپا گوندر کی جائیداد ان کی بیٹی کوپائی اممل کو سونپنے کا بندوبست کیا ہے۔ جسٹس کرشنا مراری نے اس فیصلے کے ساتھ اپنے تبصرے میں کہا، ’ہمارے تو قدیم کتابوں میں بھی خواتین کو برابر کا جانشین مانا گیا ہے۔ چاہے سمرتیاں ہوں، ٹیکائیں ہوں یا پھر دیگر مقدس کتابیں۔ ان میں تمام ایسے مضامین ہیں، جن میں بیوی، بیٹی جیسی خواتین جانشین کو تسلیم شدہ قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے لے کر دیگر عدالتوں کے فیصلوں میں بھی کئی مرتبہ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔‘

      جسٹس مراری نے اس کے ساتھ ہی ’میتااکشرا‘ (Mitakshara) ٹیکا کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں دی گئیں باتیں بالکل صحیح ہیں۔ سنت گیانیشور کی جانب سے لکھی گئی میتااکشرا (Mitakshara) جانشینوں کے اقدار کا خلاصہ کرنے کے لئے ہندو مذہب میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔

      ہندو جانشین قانون کے تحت اس طرح بڑھا بیٹیوں کا رتبہ
      ہندوستان میں 1956 میں ’ہندو جانشین قانون‘(Hindu Succession Act-1956) لاگو ہوا۔ اس میں والد کی جائیداد میں بیٹا اور بیٹی برابر کے حقدار ہیں۔ آگے 2005 میں اس میں ترمیم کی گئی۔ اس کے تحت جوائنٹ فیملی میں رہ رہے والد کی جائیداد میں بھی بیٹے بیٹیو کے لئے برابر کا حق یقینی بنایا گیا۔ پھر اگست 2020 میں سپریم کورٹ نے بیٹیوں کے حقوق کو اور وسعت دی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: