ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان آندولن سے تبلیغی جماعت جیسی ہوسکتی ہے پریشانی، حکومت بنائے گائڈ لائن: سپریم کورٹ

Farmers Protest : سپریم کورٹ نے جمعرات کو کووڈ-19 وبا اور کسان آندولن کو لے کر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے بھیڑ کو لے کر گائڈ لائنس بنانے کو کہا ہے۔

  • Share this:
کسان آندولن سے تبلیغی جماعت جیسی ہوسکتی ہے پریشانی، حکومت بنائے گائڈ لائن: سپریم کورٹ
کسان آندولن سے تبلیغی جماعت جیسی ہوسکتی ہے پریشانی، حکومت بنائے گائڈ لائن: سپریم کورٹ

نئی دہلی: ایک ماہ سے زیادہ وقت سے مرکزی کے تین زرعی قانون (Farm Laws) کی مخالفت میں جاری کسان آندولن (Farmers Protest) کو لے کر جمعرات کو سپریم کورٹ (Supreme Court) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کووڈ-19 وبا اور کسان آندولن کو لے کر تشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کا آندولن 2020 میں دہلی کے نظام الدین علاقے میں پیدا ہوئی تبلیغی جماعت جیسی صورتحال بنا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا آندولن میں کسان کورونا انفیکشن کے پھیلنے کے خلاف احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔


چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے کی صدارت والی بینچ نے جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے احتجاجی مقامات پر کورونا وائرس انفیکشن کے معاملے بڑھ سکتے ہیں۔ بار اینڈ بینچ ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت سے کورٹ کو یہ بھی آگاہ کرانے کو کہا ہے کہ احتجاجی مقامات پر وزارت صحت کی گائڈ لائنس پر عمل کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔


چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی صدارت والی بینچ میں جسٹس اے ایس بوپنا اور وی رام سبرامنیم بھی شامل تھے۔ بینچ کی طرف سے جموں وکشمیر کی وکیل سپریا پنڈت کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی پر سماعت ہو رہی تھی۔ عرضی گزاروں نے ہزاروں لوگوں کی صحت کے لئے خطرہ پیدا ہونے کو لے کر مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور دہلی پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔


عرضی گزار وکیل نے دہلی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ وہ گزشتہ سال نظام الدین مرکز میں منعقدہ مذہبی تقریب سے پھیلے کورونا انفیکشن کے معاملے میں مرکز کے سربراہ مولانا سعد کو بھی گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے یہ بتانے کو کہا ہے کہ کسان آندولن کے مقام پر کورونا کے پھیلاو سے روکنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے دہلی حکومت اور دہلی پولیس کو عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کی جاچکی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 07, 2021 02:22 PM IST