مظفر پور عصمت دری معاملہ: سپریم کورٹ کا مرکز اور بہار حکومت کو نوٹس

سپریم کورٹ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ایک طبقے میں آبروریزی کی شکار لڑکیوں کی شناخت اجاگر کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر میڈیا نے ان کی شناخت کیسے اور كيوں اجاگر کی۔

Aug 02, 2018 03:19 PM IST | Updated on: Aug 02, 2018 03:19 PM IST
مظفر پور عصمت دری معاملہ: سپریم کورٹ کا مرکز اور بہار حکومت کو نوٹس

سپریم کورٹ: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے بہار کے مظفر پور میں ایک گرلز شیلٹر ہوم میں چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت اور بہار حکومت کو جمعرات کو نوٹس جاری کئے۔ جج ایم بی لوكر اور جج دیپک گپتا کی بنچ نے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت اور بہار حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب دینے کو کہا ہے۔ کورٹ نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکیوں کی کسی بھی شکل میں (دھندلی یا تبدیل شدہ تصويروں)کو نشر نہ کرے۔

سپریم کورٹ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ایک طبقے میں آبروریزی کی شکار لڑکیوں کی شناخت اجاگر کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر میڈیا نے ان کی شناخت کیسے اور كيوں اجاگر کی۔ عدالت نے اس معاملے میں تعاون کے لئے سپریم کورٹ کی وکیل ارپنا بھٹ کو انصاف دوست مقرر کیا ہے۔

Loading...

قابل غور ہے کہ بہار كے مظفر پور کے ایک شیلٹر ہوم میں رہنے والی 32 بچیوں کے ساتھ مبینہ طورپر عصمت دری اور ہراساں کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان لڑکیوں کا الزام ہے کہ انہیں نشے کے انجکشن دئیے جاتے تھے اور انتظامیہ کے افسران اور دیگر لوگ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔ یہ معاملہ ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ایک سماجی آڈٹ رپورٹ سے سامنے آیا ہے۔

Loading...