ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تبلیغی جماعت سے متعلق نفرت انگیزی پر مودی حکومت کو سپریم کورٹ کا نوٹس، مانگا جواب

تبلیغی جماعت اورکورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے اور نفرت انگیزی پھیلانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے پریس کونسل آف انڈیا اور اور حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

  • Share this:
تبلیغی جماعت سے متعلق نفرت انگیزی پر مودی حکومت کو سپریم کورٹ کا نوٹس، مانگا جواب
سپریم کورٹ نے کہا- ریزرویشن کا حق بنیادی حق نہیں

نئی دہلی: تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لے کر بے بنیاد خبریں نشر کرنے اور نفرت انگیزی پھیلانے کے معاملے کو لےکر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے حکومت ہند اور پریس کونسل آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پریس کونسل آف انڈیا اور اور حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ضابطے کے مطابق آخر اس پورے معاملے میں کیا کاروائی کی گئی ہے۔


براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنایا جائے


تفصیلات کے مطابق مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلا کر مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی، جس کے بعد عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل سے کہا کہ وہ عرضی گزار کو بتائے کہ اس تعلق سے حکومت نے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک قانون کی دفعات 19 اور 20 کے تحت اب تک ان چینلز پر کیا کارروائی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے جمعیۃ علماء ہند کو براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا۔


تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی۔ فائل فوٹو
تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی۔ فائل فوٹو


عدالت نے آج سالسٹرجنرل آف انڈیا تشارمہتا کو کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے، جس سے لاء اینڈآڈرکا مسئلہ ہوسکتا ہے، لہذا حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینا ضروری ہے۔ اسی درمیان سینئر وکیل دوشینت دوے نےکہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالت کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہئے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو اس تعلق سے علم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 13 اپریل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد آج سماعت عمل میں آئی اس دوران عدالت نے جمعیۃعلماء کی جانب سے داخل پٹیشن مرکزی حکومت کو مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ حکومت کونوٹس جاری کرتے ہوئے 15 جون تک جواب داخل کرنے کو کہا نیز براڈ کاسٹ ایسو سی ایشن کو بھی فریق بنانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی حالانکہ آج امید کی جارہی تھی کہ چیف جسٹس اس تعلق سے کچھ فیصلہ صادر کریں گے۔

جمعیۃعلماء کی کامیابی کا پہلا مرحلہ

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ معزز عدالت آج باقاعدہ کوئی فیصلہ صادرکرے گی۔ تاہم اس نے جس طرح کیبل ٹی وی نیٹ ورک قانون کی دفعات 20-19 کے تحت بے لگام ٹی وی چینلوں کے خلاف کارروائی کو لےکر مرکز اور پریس کونسل آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر جواب طلب کیا ہے، وہ ایک انتہائی امید افزا بات ہے اور جمعیۃعلماء ہند کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ سامنے آنے تک جاری رہے گی۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ سامنے آنے تک جاری رہے گی۔


مثبت نتیجہ سامنے آنے تک جاری رہے گی قانونی جدوجہد

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند یہ قانونی لڑائی ہندو - مسلم کی بنیاد پرنہیں لڑ رہی ہے بلکہ اس کی یہ لڑائی ملک اور اس قومی یکجہتی کیلئے ہے، جو ہمارے آئین کی بنیادی روح ہے اور ملک کی آئین نے ہمیں جو اختیاردیا ہے، اس طرح کے معاملے میں ہم اپنے اسی اختیارکا استعمال کرتے ہوئے عدالت کا رخ کرتے ہیں، جہاں سے ہمیں انصاف بھی ملتا ہے۔ اس اہم معاملہ میں بھی ہماری قانونی جدوجہد تب تک جاری رہے گی، جب تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آجاتا، فیصلہ میں اگرچہ تاخیر ہو رہی ہے، لیکن میڈیا نے پچھلے کچھ ماہ کے دوران اپنی اشتعال انگیزیوں سے نفرت کا جو ماحول پیدا کیا تھا، کورونا وائرس کے حملہ کے بعد لاک ڈاؤن میں پیدا ہوئی صورتحال میں اس ملک کے مسلمانوں نے غریبوں مزدوروں اور مفلوک الحال لوگوں کی مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر بے مثال خدمت کرکے اس نفرت کو محبت میں تبدیل کردیا ہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عمل سے نہ صرف یہ باور کرا دیا کہ وہ ملک کے امن پسند شہری ہیں بلکہ یہ بھی بتادیا کہ ہر مصیبت کی گھڑی میں وہ ایک محب وطن شہری کی طرح اس ملک کے عوام کی بے لوث خدمت کرنے کے لئے تیارہیں۔

واضح رہے کہ آج چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل تین رکنی بینچ کو سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے (صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن) نے بتایا کہ تبلیغی مرکز کو بنیاد بناکر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی یہاں تک کہ اس کوشش میں صحافت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی پامال کردیا گیا۔ اس سے مسلمانوں کی نہ صرف یہ کہ سخت دل آزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لئے اس معاملے میں واجب کارروائی ہونی چاہئے۔
First published: May 27, 2020 09:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading