ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ ، یوپی - اتراکھنڈ حکومتوں کو نوٹس

اترپردیش اور اتراکھنڈ میں لو جہاد قانون (Love Jihad law) کے معاملے میں بدھ کو سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سماعت ہوئی۔

  • Share this:
لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ ، یوپی - اتراکھنڈ حکومتوں کو نوٹس
لو جہاد قانون کی آئینی حیثیت کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ ، یوپی - اتراکھنڈ حکومتوں کو نوٹس

نئی دہلی: یوپی اور اتراکھنڈ (Love Jihad law) میں لو جہاد قانون کے معاملے میں بدھ کو سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے عرضی قبول کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کو نوٹس جاری کرکے اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ یوپی میں ابھی یہ صرف ایک آرڈیننس ہے، جبکہ اتراکھنڈ میں یہ 2018 میں قانون بن چکا ہے۔ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں لو جہاد قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی کو لالچ دے کر، بھٹکا کر یا ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرنے کو مجبور کرتا ہے تو اسے پانچ سال تک کی سزا ہوسکتی ہے، لیکن کچھ سماجی کارکنان اور تنظیموں نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج دیا ہے۔




لو جہاد قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینے والی سماجی تنظیموں اور کارکنان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعہ پولیس اور حکومت محبت کرنے والے لوگوں اور اپنے ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرنے والوں کو پریشان کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام ہے کہ اس کے ذریعہ صرف اقتلیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سماعت کے دوران عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے لو جہاد کے التزام پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ حالانکہ اس پر سپریم کورٹ نے روک لگانے سے انکار کردیا۔ تاہم اترپردیش اور اتراکھنڈ کی حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 06, 2021 02:08 PM IST