آدھار ڈاٹا کے استعمال کا معاملہ: مرکزاور یوآئی ڈی اے آئی کوسپریم کورٹ کا نوٹس

سپریم کورٹ نے پرائیوٹ کمپنیوں کوکسٹمرس کے رضاکارانہ تصدیق کے لئے آدھار ڈاٹا استعمال کرنے کی اجازت دینے والے قانون میں ترمیم کے آئینی جوازکو چیلنج کرنے والی عرضی پرمرکزی حکومت سے آج جواب طلب کیا۔

Nov 22, 2019 05:34 PM IST | Updated on: Nov 22, 2019 05:34 PM IST
آدھار ڈاٹا کے استعمال کا معاملہ: مرکزاور یوآئی ڈی اے آئی کوسپریم کورٹ کا نوٹس

سپریم کورٹ نے پرائیوٹ کمپنیوں کوکسٹمرس کے رضاکارانہ تصدیق کے لئے آدھار ڈاٹا استعمال کرنے کی اجازت دینے والے قانون میں ترمیم کے آئینی جوازکو چیلنج کرنے والی عرضی پرمرکزی حکومت سے آج جواب طلب کیا۔چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس بی آر گوائی کی بنچ نے ایس جی وومبٹکیرے اور حقوق انسانی کے کارکن بیجواڑہ ولسن کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت اورانڈین یونیک آئیڈینٹیٹی فیکیشن اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) کو نوٹس جاری کیا اوراس معاملے کواسی طرح کے زیرالتواعرضی کے ساتھ جوڑدیا۔

علامتی تصویر

Loading...

عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ آدھار قانون میں 2019 کی ترمیم عدالت عظمی کے سابقہ حکم کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس کے ذریعہ پرائیوٹ کمپنیوں کی پچھلے دروازے سے انٹری کرائی ہے۔اس سے پہلے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے آدھار قانون کے جواز کوبرقرار رکھتے ہوئے کچھ اعتراضات کئے تھے اور کہا تھا کہ پرائیوٹ کمپنیوں کو کسٹمرس کی اجازت سے بھی ان کی معلومات کی تصدیق کے لئے ڈاٹا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بعد میں مرکز نے بینک اکاونٹ کھولنے اور موبائل فون کنکشن حاصل کرنے کے لئے صارفین کو شناختی کارڈ کے طور پر آدھار کا رضاکارانہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے قانون میں ترمیم کی تھی۔

چونکہ یو آئی ڈی اے آئی کے ڈیٹا بیس میں چہرہ کی تصویر پہلے سے ہی موجود ہے ، ایسے میں جن لوگوں کا آدھار بن چکا ہے ، انہیں دوبارہ فوٹو کھینچوانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

Loading...