ایودھیا معاملہ: 1949 سے قبل گربھ گرہ میں رام کی مورتی نہیں تھی: مسلم فریق

سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازعہ کی 30 ویں دن کی سماعت کے دوران منگل کو مسلم فریق نے کہا کہ 1949 میں پتہ چلا کہ گربھ گرہ میں بھگوان کا نزول ہوا ہے، لیکن اس سے پہلے وہاں مورتی نہیں تھی۔

Sep 24, 2019 05:23 PM IST | Updated on: Sep 24, 2019 05:23 PM IST
ایودھیا معاملہ: 1949 سے قبل گربھ گرہ میں رام کی مورتی نہیں تھی: مسلم فریق

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ میں اجودھیا تنازعہ کی 30 ویں دن کی سماعت کے دوران منگل کو مسلم فریق نے کہا کہ 1949 میں پتہ چلا کہ گربھ گرہ میں بھگوان کا نزول ہوا ہے، لیکن اس سے پہلے وہاں مورتی نہیں تھی۔ سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر کی آئینی بنچ کے سامنے دلیل دی کہ افسانوی روایات کے مطابق پورے اجودھیا کو بھگوان رام کی جائے پیدائش سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے بارے میں کوئی ایک خاص جگہ نہیں بتائی گئی ہے۔

انہوں نے ہندو فریق کے گواہ کی گواہی پڑھتے ہوئے کہا کہ لوگ رام چبوترے کے قریب لگی ریلنگ کی طرف جاتے تھے۔ مورتی گربھ گرہ میں کیسے گئی اس بارے میں اس کو معلومات نہیں ہے۔ راجیو دھون نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج سدھیر اگروال نے مانا تھا کہ رام چبوترے پر پوجا کی جاتی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے ایک جج کے تبصرے کی مخالفت کی جنہوں نے کہا کہ مسلمان وہاں پر اپنا قبضہ ثابت نہیں کر پائے تھے۔

Loading...

راجیو دھون نے کہا کہ مسلمان وہاں پر نماز پڑھتے تھے، اس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ سال 1949 میں 22-23 دسمبر کی رات کو جس طرح سے مورتی کو رکھا گیا، وہ ہندو قوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔ آج انہوں نے اپنی دلیل مکمل کر لی۔ انہوں نے کل 14 ویں روز اپنی دلیلیں پیش کی تھیں۔ اب مسلم فریق کی جانب سے ظفریاب جیلانی دلیل دے رہے ہیں۔

Loading...