உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    BJP MLAs Suspension Case:مہاراشٹراسمبلی سےمعطل ارکان کوملی راحت، سپریم کورٹ نے سنایااہم فیصلہ

    Youtube Video

    BJP MLAs Suspension Case: سپریم کورٹ نے جمعہ کو مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے 5 جولائی 2021 کو منظور کی گئی قرارداد کو روکنے لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس قراردادمیں بی جے پی کے 12 ایم ایل ایز کو ایوان میں مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے پر ایک سال کے لیے معطل کرنے کی بات کہی گئی تھی

    • Share this:
      BJP MLAs Suspension Case: :سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی (Maharashtra Assembly)سے معطل بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے اراکین کو راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ (Supreme Court) نے بی جے پی کے 12 ایم ایل ایز کی ایک سال کی معطلی کو غیر آئینی اور من مانی قرار دیتے ہوئے اس کالعدم قراردیاہے۔ پریزائیڈنگ افسر کے ساتھ مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے پر ارکان اسمبلی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

      سپریم کورٹ نے جمعہ کو مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے 5 جولائی 2021 کو منظور کی گئی قرارداد کو روکنے لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس قراردادمیں بی جے پی کے 12 ایم ایل ایز کو ایوان میں مبینہ طور پر بدتمیزی کرنے پر ایک سال کے لیے معطل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ عدالت نے پایا کہ اراکین اسمبلی کو اجلاس سے باہر معطل کرنے کی تجویز "غیر آئینی"، "غیر قانونی" اور "ایوان کے اختیارات سے تجاوز" ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کی معطلی جاری اجلاس تک محدود ہوسکتی ہے۔


      جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایاہے۔ سماعت کے دوران بنچ نے زبانی طور پر کہا تھا کہ معطلی غیرمناسب اور 'برخاست کیے جانے سے بھی بدتر' ہے۔ اگر برطرفی کی بات ہے تو اس سیٹ کو پر کرنے کے لیے ضمنی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ بنچ نے کہا تھا کہ سیشن کی مدت سے زیادہ طویل معطلی ایک علاقے کے لیے سزا کے مترادف ہےکیونکہ اس دوران ایوان میں علاقے کا کوئی نمائندہ موجود نہیں رہتاہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ’’جمہوریت کے لیے خطرناک‘‘ ہوسکتا ہے۔


      بنچ نے کہا تھا کہ قواعد کے مطابق ایوان کے پاس کسی رکن کو 60 دنوں سے زیادہ معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس سلسلے میں، بنچ نے آئین کے آرٹیکل 190(4) کا حوالہ دیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی رکن ایوان کی اجازت کے بغیر 60 دن تک غیر حاضر رہتا ہے تو اسے خالی تصور کیا جائے گا۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل آریم سندرم نے شروع میں کہا تھا کہ ایوان کے اندر کارروائی پر عدالتی نظرثانی کی اجازت نہیں ہے۔ معطل ایم ایل اے کی طرف سے سینئر وکیل مکل روہتگی، مہیش جیٹھ ملانی، سدھارتھ بھٹناگر، نیرج کشن کول پیش ہوئے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: