உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جوہر یونیورسٹی کے ایک حصے کو منہدم کرنے کے معاملے پر Azam Khan کو سپریم کورٹ سے راحت

    Youtube Video

    Jauhar University Rampur:  جوہر یونیورسٹی کے حصے کو منہدم کرنے کی ممکنہ کارروائی کے معاملے میں اعظم خان کی عرضی پر عدالت تیار ہے۔ اس ہفتے سپریم کورٹ میں سماعت ہو سکتی ہے۔ 

    • Share this:
      Jauhar University Rampur: جوہر یونیورسٹی کے حصے کو منہدم کرنے کی ممکنہ کارروائی کے معاملے میں اعظم خان کی عرضی پر عدالت تیار ہے۔ اس ہفتے سپریم کورٹ میں سماعت ہو سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ رامپور کی جوہر یونیورسٹی کے کچھ حصوں کو منہدم کیے جانے کے امکان کو لیکر سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اعظم کے وکیل نظام پاشا نے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ضمانت دیتے ہوئے جو شرط لگائی گئی تھی اس کے مطابق ضلع انتظامیہ نے یونیورسٹی کی تقریباً 13 ایکڑ زمین کو قبضے میں کر لیا ہے۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضمانت دیتے ہوئے ایسی شرط تھوپنا غلط ہے، اب کیمپس کی دو عمارتیں گرانے کی تیاری ہے۔ بنچ نے کہا کہ درخواست رجسٹرار کے سامنے فہرست سازی کے لیے رکھی جائے۔ دراصل، رامپور کے ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار میندر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے ہدایات جاری کی ہیں جس کے تحت دشمن کی جائیداد کو کسٹوڈین ڈیپارٹمنٹ کو واپس دیا جانا چاہئے۔ جوہر یونیورسٹی میں 13 ایکٹر اراضی پر قبضہ کرکے واپس لینا ہے جس کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی 30 جون تک مکمل کرنی ہے۔

      ساکیت کورٹ میں سماعت آج، مرکزی وزیر نےدی صفائی،ASI کو نہیں دیاQutub Minarمیں کھدائی کا حکم

       


      آپ کو بتاتے چلیں کہ اعظم خان سمیت کئی لوگوں کے خلاف دشمن کی جائیداد ہڑپنے اور کروڑوں روپے سے زیادہ کے عوامی پیسے کا غلط استعمال کرنے پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ہندستان کے بٹوارے  کے وقت امام الدین قریشی نامی شخص پاکستان گیا تھا اور اس کی زمین دشمن کی جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ کرائی گئی تھی لیکن اعظم خان نے کئی لوگوں کے ساتھ مل کر اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
      مزید پڑھئے: Modi@8: مودی حکومت نے گاؤں کے لوگوں کو دیں یہ آٹھ بڑی سوغات
      قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد گزشتہ جمعہ کے روز ہی سیتا پور جیل سے رہا ہوئے تھے۔ ان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشینل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو نے عدالت عظمیٰ سے کہا تھا کہ عمران خان ’زمین قبضہ کرنے والے‘ اور عادتاً مجرم‘ ہیں۔
      حالانکہ سپریم کورٹ نے ان دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے اعظم خان کو عبوری ضمانت دیتے ہوئے جمعرات کو کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اسے (عدالت کو) ملے خصوصی اختیارات کا استعمال کرنے کے لئے یہ ای مناسب معاملہ ہے۔ (ایجنسی اِن پُٹ کے ساتھ)
      Published by:Sana Naeem
      First published: