اجودھیا تنازعہ: اب پانچوں کام کے دنوں میں سماعت ہوگی

معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے جمعرات کو بتایا کہ اب اس معاملے کی سماعت صرف منگل، بدھ اور جمعرات کے علاوہ پیر اور جمعہ کو بھی ہوگی۔

Aug 08, 2019 09:06 PM IST | Updated on: Aug 08, 2019 09:07 PM IST
اجودھیا تنازعہ: اب پانچوں کام کے دنوں میں سماعت ہوگی

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

سپریم کورٹ میں رام جنم بھومی۔بابری مسجد زمین تنازعہ کی سماعت اب ہفتہ میں تین دن (منگل، بدھ اور جمعرات) کے بجائے پانچوں کام کے دنوں میں ہوگی۔ معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے جمعرات کو بتایا کہ اب اس معاملے کی سماعت صرف منگل، بدھ  اور جمعرات کے علاوہ پیر اور جمعہ کو بھی ہوگی۔ عام طورپر آئینی بنچ تین دن منگل، بدھ اور جمعرات کو ہی کسی معاملے پر سماعت کرتی ہے۔ اس معاملہ میں سماعت چھ اگست سے شروع ہوئی تھی اور آج سماعت کا تیسرا دن تھا۔

سماعت کے دوران رام للا وراجمان کے سینئر وکیل کے پراسرن نے عدالت میں کہا کہ ’جنم استھان‘ کی سٹیک جگہ نہیں ہے، اس کا مطلب آس پاس کے علاقوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ پورا علاقہ جنم استھان ہے۔ اس کے تعلق سے کوئی تنازعہ نہیں کہ یہ جنم استھان بھگوان رام کا ہے۔ ہندو اور مسلم دونوں فریق اس متنازعہ علاقہ کو جنم استھان کہتے ہیں۔

آئینی بنچ نے پوچھا کہ کیا کسی جنم استھان کو ایک قانونی شخصیت مانا جاسکتا ہے؟ مورتی ایک قانونی شخصیت ہوسکتی ہے، لیکن کیا ایک جگہ یا جنم استھان قانونی شخصیت ہوسکتی ہے؟ اس کے جواب میں پراسرن نے کہا کہ ’رام للا وراجمان‘ اور’نرموہی اکھاڑہ‘کی طرف سے دائر دو الگ الگ سوٹ ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور اگر ایک جیتتا ہے تو دوسرا خود بخود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ مسلم فریق کو کسی بھی ایک معاملہ میں بحث شروع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے کیونکہ قانونی طورپر صرف اس کی ہی اجازت دی جاسکتی ہے۔

Loading...

Loading...