உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    SC on Hijab Row: ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کاتحفظ کریں گے،مناسب وقت پرکی جائیگی سماعت،سپریم کورٹ

    Youtube Video

    Karnataka Hijab Row: ایس جی تشار مہتا کو روکتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ ہم تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ مناسب وقت آنے پر ہم سماعت کریں گے۔ مناسب وقت پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے مداخلت کی جائیگی۔

    • Share this:
      کرناٹک حجاب تنازعہ (Karnatka Hijab Row)پر آج سپریم کورٹ(Supreme Court) میں دوبارہ سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس (Chief Justice of India) این وی رمنا کی بنچ نے کہا کہ ہم مناسب وقت پر اس عرضداشت پر سماعت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے درخواست دائر کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو بڑے پیمانے پر نہ پھیلائیں۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ نے عرضی گزاروں سے کہا کہ وہ اسے قومی مسئلہ نہ بنائیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ درخواست گزار اس معاملے پر ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، جہاں پیر کو ایک بار پھر سماعت ہونی ہے۔

      ایس جی تشار مہتا کو روکتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ ہم تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ مناسب وقت آنے پر ہم سماعت کریں گے۔ مناسب وقت پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے مداخلت کی جائیگی۔ عدالت نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے کہا، "ہم دیکھ رہے ہیں کہ کرناٹک میں کیا ہو رہا ہے اور معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔"

       



      کانگریس لیڈر بی وی سرینواس راؤ نے داخل کی ہے عرضی

      عرضی گزاروں نے کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کی تھیں۔ کانگریس لیڈر بی وی سرینواس راؤ کی طرف سے بھی ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ قبل ازیں جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے اگلے حکم تک اسکولوں اور کالجوں میں مذہبی لباس پہننے پر پابندی لگا دی تھی۔ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہو جاتا، طالبات کو تعلیمی اداروں میں حجاب اور ایسا کوئی بھی مذہبی لباس پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ میں شدت پیدا ہوتی ہے۔

      قابل ذکر بات یہ ہے کہ حجاب کو لے کر تنازعہ کرناٹک سے باہر بھی پھیلنے لگا ہے۔ مہاراشٹر، آندھرا پردیش، دہلی سمیت کئی ریاستوں میں حجاب کی حمایت میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں میں کہا گیا ہے کہ حجاب انتخاب کا معاملہ ہے اور یہ آئین کے تحت ایک حق ہے۔ اس طرح اس کی اجازت ہونی چاہیے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: