شادی کاجھانسہ دےکرجسمانی تعلقات بنانا آبروریزی: سپریم کورٹ

عدالت عظمیٰ کے مطابق ایسی حرکتیں خواتین کی عزت کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔

Apr 15, 2019 10:23 PM IST | Updated on: Apr 15, 2019 10:23 PM IST
شادی کاجھانسہ دےکرجسمانی تعلقات بنانا آبروریزی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نےکہا ہےکہ شادی کا جھانسہ دے کرجسمانی تعلقات بنانا عصمت دری ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کےمطابق ایسی حرکتیں خواتین کےعزت کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ جسٹس ایل ناگیشورراو اورایم آرشاہ کی بینچ نےایک فیصلہ سناتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

بینچ نےکہا کہ کئی بارایسا ہوتا ہے کہ متاثرہ اورعصمت دری کرنے والا ملزم دونوں اپنی اپنی زندگی میں آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ اپنی اپنی فیملی کا خیال رکھتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہو۔ اس کی حرکتوں کوہمیشہ جرم مانا جائے گا۔ کورٹ نے مانا کی ایسے حادثات کا جدید معاشرہ میں اضافہ ہورہا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک خاتون کی شکایت کی بنیاد پردیا گیا۔

Loading...

چھتیس گڑھ کی خاتون نے ایک ڈاکٹرپر2013 میں اس کے ساتھ عصمت دری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ خاتون کونی (بلاسپور) کی باشندہ ہے اور2009 سے ڈاکٹرسے واقف تھی۔ ان دونوں کے درمیان محبت کا معاملہ تھا۔ ملزم نے خاتون کوشادی کرنےکا جھانسہ دیا تھا۔ دونوں فریق کےاہل خانہ بھی یہ اچھی طرح جانتےتھے۔

ملزم کےبعد میں ایک دوسری خاتون کے ساتھ سگائی ہوگئی، لیکن اس نے متاثرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم نہیں کیا۔ اس نے بعد میں اپنا وعدہ توڑ دیا اورکسی دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرلی۔

Loading...