உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ کا HC کو حکم - نفرت پھیلانے والی تقریر کے لئے لیڈروں کے خلاف FIR پر جلد کریں فیصلہ

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    عدالت نے پچھلے سال 10 فساد متاثرین کی جانب سے دائر ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا، جس میں بی جے پی لیڈروں انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھئے ورما جب کہ دیگر کے خلاف اُن کے مبینہ نفرت پھیلانے والی تقریروں کے لئے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جمعہ کو سپریم کورٹ (Supreme Court) نے دلی ہائی کورٹ (Dellhi High Court) سے کہا ہے کہ وہ تین مہینوں کے اندر یہ فیصلہ کرے کہ نفرت پھیلانے والی تقریریں (Hate Speech) کے لئے لیڈروں کے خلاف FIR درج ہونے چاہیے یا نہیں۔ پچھلے سال دلی میں فسادات کے دوران کئی لیڈروں پر ہیٹ اسپیچ دینے کا الزام لگا تھا۔ فسادات کے متاثرہ خاندانوں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے ان لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی جنہوں نے نفرت پھیلانے والی تقریریں دی تھیں۔ لیکن عدالت نے اس پر کوئی بھی فیصلہ دینے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے ہی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ لہٰذا ہائی کورٹ کو اس معاملے پر فیصلہ دینے کے لئے تین مہینے کا وقت دیا گیا۔

      عرضی جسٹس ایل این راو اور جسٹس بی آر گووئی کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آئی۔ اس عرضی میں نفرت انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی، جس نے لوگوں کو پچھلے سال مبینہ طور پر تشدد م یں شامل ہونے کے لئے اُکسایا۔

      درخواست گزاروں کی کیا تھی دلیل
      تشدد کے متاثرین تین درخواست گزاروں کی جانب سے پیش سینئر وکیل کولین گونزالویس نے بنچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے پچھلے سال مارچ میں حکم کے باوجود اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ بنچ نے کہا، ’ ہم ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 32 جکے تحت دائر اس رٹ پر غور کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، رٹ درخواست خارج کی جاتی ہے۔‘‘

      بنچ کا حکم
      بنچ نے اپنے حکم میں کہا، ’ درخواست گزار کی جانب سے پیش سینئر وکیل کولین گونزالویس نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے سامنے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر رٹ درخواستمیں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ اس عدالت نے دلی ہائی کورٹ کو رٹ درخواست پر فوری فیصلہ لینے کا حکم دیا تھا۔

      پہلے بھی جلد سماعت کا دیا تھا حکم
      پچھلے سال 4 مارچ کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو سنوائی کے لئے کہا تھا، جس میں مبینہ طور سے نفرت پھیلانے والی تقریروں کے لئے کچھ بی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی گئی تھی، جس کی وجہ سے دلی میں دنگے ہوئے تھے۔

      ان لیڈروں پر FIR درج کرنے کا مطالبہ
      عدالت نے پچھلے سال 10 فساد متاثرین کی جانب سے دائر ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا، جس میں بی جے پی لیڈروں انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھئے ورما جب کہ دیگر کے خلاف اُن کے مبینہ نفرت پھیلانے والی تقریروں کے لئے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: