یوپی حکومت کو سپریم کورٹ کی پھٹکار، کہا۔ ٹویٹ کرنا کوئی قتل نہیں، صحافی پرشانت کنوجیا کو فورا کریں رہا

سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’ کسی کو ایک ٹویٹ کے لئے 11 دن تک جیل میں نہیں رکھ سکتے ہیں‘‘۔

Jun 11, 2019 12:25 PM IST | Updated on: Jun 11, 2019 02:42 PM IST
یوپی حکومت کو سپریم کورٹ کی پھٹکار، کہا۔ ٹویٹ کرنا کوئی قتل نہیں، صحافی پرشانت کنوجیا کو فورا کریں رہا

پرشانت کنوجیا: فائل فوٹو

آزاد پیشہ صحافی پرشانت کنوجیا کی گرفتاری سے متعلق دائر ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے یوپی کی یوگی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے اور انہیں فورا رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پرشانت کی اہلیہ کی طرف سے دائر عرضی پر منگل کو سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’ کسی کی رائے الگ الگ ہو سکتی ہے، انہیں (پرشانت) شاید یہ ٹویٹ نہیں کرنا چاہئے تھا، لیکن اس بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’ کسی کو ایک ٹویٹ کے لئے 11 دن تک جیل میں نہیں رکھ سکتے ہیں‘‘۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے کہا کہ یہ کوئی قتل کا معاملہ نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ مجسٹریٹ کا آرڈر صحیح نہیں ہے۔ انہیں فورا جیل سے چھوڑا جائے‘‘۔ عدالت عظمیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر کسی کی آزادی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ہم مداخلت کریں گے۔ ریاستی حکومت اپنی جانچ جاری رکھ سکتی ہے لیکن کنوجیا کو سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

Loading...

وہیں، عدالت میں یوپی حکومت کا موقف رکھنے والے اے ایس جی وکرم جیت بنرجی نے عدالت کو کنوجیا کی طرف سے کئے گئے ٹویٹس کی کاپی سونپی۔ یوپی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ’’ کنوجیا کی گرفتاری صرف ایک ٹویٹ پر نہیں ہوئی بلکہ وہ عادتا مجرم ہے۔ اس نے بھگوان اور مذہب کے خلاف ٹویٹ کیا ہے‘‘۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

بتا دیں کہ پرشانت کنوجیا نے گزشتہ دنوں یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کر فیس بک پر ایک ویڈیو شئیر کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، انہوں نے اپنے پوسٹ میں یوگی کے خلاف قابل اعتراض باتیں بھی لکھی تھیں جس کے بعد کنوجیا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

 

Loading...