ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن کو کیا رد ، کہا : یہ برابری کے حق کی خلاف ورزی

بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے بدھ کو فیصلہ سنایا ۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ریاست میں تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں مراٹھا ریزرویشن کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا ۔

  • Share this:
سپریم کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن کو کیا رد ، کہا : یہ برابری کے حق کی خلاف ورزی
سپریم کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن کو کیا رد ، کہا : یہ برابری کے حق کی خلاف ورزی

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں مراٹھا کوٹہ رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ یہ برابری کے حق کی خلاف ورزی ہے ۔ سپریم کورٹ نے ریزرویشن کی حد 50 فیصد پر طے کرنے کے 1992 کے منڈلہ فیصلہ کو بڑی بینچ کے پاس بھیجنے سے انکار کردیا ۔ ساتھ ہی عدالت نے سرکاری نوکریوں اور داخلہ میں مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے سے متعلق مہاراشٹر کے قانون کو رد کردیا اور اس کو غیر آئینی قرار دیا ۔


بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ہمیں اندرا ساہنی کے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کی وجہ نہیں ملی ۔ جسٹس اشوک بھوشن کی صدارت میں جسٹس ایل ناگیشور راو ، جسٹس ایس عبدالنظیر ، جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس رویندر بھٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ۔


سپریم کورٹ کے مطابق مراٹھا کمیونٹی تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ نہیں ہیں ، اس لئے انہیں ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ۔ مہاراشٹر نے ریزرویشن کی اس حد کی خلاف ورزی کی تھی ۔


پانچ ججوں کی بینچ نے چار الگ الگ فیصلے دئے ، لیکن سبھی نے مانا کہ مراٹھا کمیونٹی کو ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ۔ ریزرویشن صرف پسماندہ طبقہ کو ہی دیا جاسکتا ہے اور مراٹھا اس زمرہ میں نہیں آتے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جسٹس گائیکواڑ کمیشن اور ہائی کورٹ دونوں نے غیر معمولی حالات میں ریزرویشن دئے جانے کی بات کہی ہے ، لیکن دونوں نے نہیں بتایا کہ مراٹھا ریزرویشن میں غیر معمولی حالات کیا ہیں ۔

آئینی بینچ نے معاملہ کی سماعت 15 مارچ کو شروع کی تھی ۔ بامبے ہائی کورٹ نے جون 2019 میں قانون کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ 16 فیصدی ریزرویشن مناسب نہیں ہے اور روزگار میں ریزرویشن 12 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے اور نامزدگیوں میں یہ 13 فیصد سے زیاہ نہیں ہونا چاہئے ۔

ہائی کورٹ نے ریاست میں تعلیمی اداروں اورسرکاری نوکریوں میں مراٹھاوں کیلئے ریزرویشن کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 05, 2021 11:32 AM IST