ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پرم بیر سنگھ کی عرضی خارج، سپریم کورٹ نے کہا- الزام سنگین، پہلے ہائی کورٹ جائیں

Maharashtra Crisis: سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پرم بیر سنگھ کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے متعلقہ محکمہ کو فریق کیوں نہیں بنایا ہے؟ اور آپ پہلے ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟

  • Share this:
پرم بیر سنگھ کی عرضی خارج، سپریم کورٹ نے کہا- الزام سنگین، پہلے ہائی کورٹ جائیں
پرم بیر سنگھ کی عرضی خارج، سپریم کورٹ نے کہا- الزام سنگین، پہلے ہائی کورٹ جائیں

ممبئی/ نئی دہلی: ممبئی (Mumbai) کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ (Param Bir Singh) کی طرف سے مہاراشٹر (Maharashtra) کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ (Anil Deshmukh) کے خلاف داخل سی بی آئی (CBI) جانچ کے مطالبہ والی عرضی پر سپریم کورٹ (Supreme Court) نے بدھ کو سماعت سے انکار کردیا۔ پرم بیر سنگھ نے عرضی میں انل دیشمکھ کے خلاف منصفانہ وآزادانہ جانچ کے لئے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس آر سبھاش ریڈی کی بینچ نے کہا کہ معاملے میں انل دیشمکھ کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ بینچ نے یہ بھی کہا کہ آپ پہلے ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ بے حد حساس معاملہ ہے۔


سپریم کورٹ نے پرم بیر سنگھ کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے متعلقہ محمکہ کو فریق کیوں نہیں بنایا ہے؟ آپ نے دفعہ 32 کے تحت کیوں عرضی داخل کی ہے، 226 کے تحت کیوں نہیں داخل کی؟ اس کے بعد پرم بیر سنگھ کو ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا گیا۔ اس پر پرم بیر سنگھ نے سپریم کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے اور کہا ہے کہ وہ بامبے ہائی کورٹ جائیں گے۔ پرم بیر سنگھ کے وکیل نے کہا کہ ہم آج ہی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر دیں گے۔ آپ (سپریم کورٹ) ہائی کورٹ کو حکم دیں کہ وہ اس معاملے کی سماعت کل کریں۔ اس پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ایسا کوئی بھی حکم دینے سے انکار کردیا۔


سپریم کورٹ نے پرم بیر سنگھ کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے متعلقہ محمکہ کو فریق کیوں نہیں بنایا ہے؟ آپ نے دفعہ 32 کے تحت کیوں عرضی داخل کی ہے، 226 کے تحت کیوں نہیں داخل کی؟
سپریم کورٹ نے پرم بیر سنگھ کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے متعلقہ محمکہ کو فریق کیوں نہیں بنایا ہے؟ آپ نے دفعہ 32 کے تحت کیوں عرضی داخل کی ہے، 226 کے تحت کیوں نہیں داخل کی؟


پرم بیر سنگھ نے عرضی کے ذریعہ عدالت سے ممبئی کے پولیس کمشنر عہدے سے ان کے تبادلے کو منمانہ اور غیر قانونی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس حکم کو منسوخ کرنے کی گزارش کی گئی تھی۔ پرم بیر سنگھ نے ایک عبوری راحت کے طور پر اپنے تبادلہ کے حکم پر روک لگانے اور ریاستی حکومت، مرکزی حکومت اور سی بی آئی کو دیشمکھ کی رہائش گاہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج فوراً قبضہ میں لینے کے لئے احکامات جاری کرنے کی گزارش کی تھی۔

واضح رہے کہ پرم بیر سنگھ نے الزام لگایا ہے، ’انل دیشمکھ نے اپنی رہائش گاہ پر فروری 2021 میں سینئر پولیس افسران کو نظر انداز کرتے ہوئے جرائم خفیہ اکائی، ممبئی کے سچن واجے اور سماجی کارکنان برانچ، ممبئی کے ایس پی سنجے پاٹل سمیت دیگر پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں ہر ماہ 100 کروڑ روپئے کی وصولی کرنے کا ہدف دیا تھا۔ ساتھ ہی، مختلف اداروں اور دیگر ذرائع سے بھی رقم جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 24, 2021 05:16 PM IST